کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 182 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 182

صاحب ایسے ایسے دور دراز مقامات تک پہنچے جہاں آج تک کوئی کشمیری لیڈر بھی نہیں پہنچ سکا تھا تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا ان کا یہ چار ماہ کا تاریخی دورہ عوامی سیاسی بیداری کے نقطہ نظر سے اپنے اندر بہت افادیت رکھتا تھا۔جو کشمیر مسلم کا نفرنس کی کامیابی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔شاہ صاحب محترم کے دورہ کے ضمن میں مجھے ایک واقعہ یاد آیا۔محترم قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور جب کشمیر تشریف لے گئے تو انہوں نے کشمیری لیڈروں سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں کسی ایسے شخص سے ملنا چاہتا ہوں جس نے سارے کشمیر کا دورہ کیا ہوتا کہ میں اُس سے ریاست کے ہر حصہ کے حالات دریافت کر سکوں۔بڑی سوچ بچار کے بعد چودھری عبد الواحد ( مدیر اعلیٰ اخبار اصلاح سری نگر) کا نام پیش ہوا۔چودھری عبد الواحد (مرحوم نے صدر محترم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے ارشاد کے تحت ریاست کا کونہ کونہ چھان مارا تھا۔ان کے سفر کے حالات سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔چودھری صاحب کی قائداعظم سے ملاقات ہوئی۔جس کے اختتام پر قائد اعظم نے بہت خوشنودی اور حیرانی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ چودھری عبدالواحد کی معلومات اتنی وسیع ہیں کہ غیر ریاستی ہونے کے باوجود بھی کوئی ریاستی باشندہ مجھے ایسا نہیں ملا جوریاست کے ہر حصہ کے حالات سے اُن سے زیادہ باخبر ہو۔لیڈروں سے پابندیاں دور ہوئیں کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لیے ضروری تھا کہ جو لیڈرصو بہ کشمیر سے حکماً نکال دیئے گئے تھے۔ان پر سے پابندیاں دور کروائی جائیں۔چنانچہ سید زین العابدین نے مسٹر لاتھر انسپکٹر جنرل پولیس اور مسٹر کالون وزیر اعظم سے ملاقاتیں کر کے انہیں اس بات کے لیے آمادہ کر لیا پہلے مولا نا میرک شاہ اور میاں اللہ یار مظفر آبادی پر سے پابندیاں دور کی گئیں اور کچھ عرصہ کے بعد مفتی ضیاء الدین کو جو جموں میں نظر بند تھے کشمیر آنے کی اجازت دے دی گئی۔چنانچہ ان سب نے آتے ہی کام شروع کر دیا۔186