کشمیر کی کہانی — Page 127
مسلمانانِ کشمیر اور ڈوگرہ راج کشمیر کی جنگ آزادی کے سلسلہ میں ملک فضل حسین کی خدمات بھی قابل ذکر ہیں۔انہوں نے ایک محققانہ کتاب لکھی جس میں اہالیان کشمیر کی زبوں حالی اور تباہی و بربادی کی نشاندہی کر کے مخالفین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ معترضین کی اپنی تحریر میں درج کر کے کیا گیا تھا۔یہ کتاب جس کا نام "مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج تھا بہت مقبول ہوئی۔کشمیر کے تمام لیڈروں نے اس کی تعریف میں نوٹ لکھے اور ضروری اقتباسات کا انگریزی ترجمہ کر کے گلینسی کمیشن کے سامنے بھی پیش کیا شیخ محمد عبد اللہ نے اس کتاب کے متعلق لکھا:۔قابل مصنف نے بہت محنت سے کام کیا ہے اور کشمیر کے مسلمانوں کی نسبت دردِ دل رکھنے والے تمام حضرات کو چاہیے کہ گھر گھر میں اس کتاب کو منگوائیں۔اور اپنے اصل حالات اور دشمنوں کی چالوں سے واقف رہیں۔اگر وہ آئندہ دنیا میں ایک باوقار قوم کی مانند ر ہنا چاہتے ہیں وو 66 شیخ محمد عبد اللہ کے علاوہ جناب اللہ رکھا ساغر۔مولوی عبد الرحیم ایم اے، شیخ غلام قادر آف جموں، محمد یوسف بی۔اے ہمفتی جلال الدین ایم اے۔اور دوسرے کشمیری لیڈروں نے بھی اس کتاب پر ریویو لکھے۔اس کتاب کا دوسرا حصہ بھی ملک فضل حسین نے ”مسلمانانِ کشمیر اور ہندو مہا سبھائی“ کے نام سے شائع کیا۔یہ کتاب بھی پہلی کی طرح بہت مقبول ہوئی۔مہاراجہ سے ملاقات کا انتظام جنوری ۳۲ء میں صدر کشمیر کمیٹی نے پہلے اپنے نمائندہ سید زین العابدین کو کیلے اور 131