کشمیر کی کہانی — Page 126
دلجمعی کے ساتھ مشورہ ہوا جس کے بعد یہ قافلہ واپس آ گیا۔اس سفر میں صدر محترم کا جو ذاتی عملہ ساتھ تھا۔جناب صدر کے ان تمام سفروں میں جو کہ نشہ کے سلسلہ میں آپ نے کئے آپ کے ساتھ رہا۔شیخ یوسف علی بی اے پرائیویٹ سیکرٹری ڈاکٹر حشمت اللہ میڈیکل آفیسر اور خان یحیی خان آپ کے دفتر کے ہیڈ کلرک۔۔۔۔میاں نذیر احمد بھا گلپوری موٹر ڈرائیور اور خان میر خاں افغان۔ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان سب کے قلوب میں بھی ان کے آقا نے اپنے والی چنگاری ہی سلگا دی ہے۔ظ۔۱) کون آیا۔کون گیا ریاست کی طرف سے ہمارے ہاؤس بوٹ کی سخت نگرانی ہوتی تھی کہ کون آیا۔کون گیا۔لیکن اس سفر کا کسی کو پتہ نہ چلا۔غزنوی صاحب نے مجھے واپسی پر بتایا کہ جب ہم کشمیر کا بیر میر عبور کرنے لگے تو بہت سویرا تھا۔سخت سردی تھی۔سپاہی اُونگھ رہا تھا۔میں نے اُسے کہا کہ رجسٹر لاؤ میں خانہ پوری کر دیتا ہوں ( کیونکہ ہر آنے جانے والے کا ریکارڈ رکھا جاتا تھا ) تم بیریئر کھول دو۔وہ ادھر گیا تو میں نے اس طرح نام لکھے عبدالرحیم۔عبد اللہ۔عصمت اللہ اسماعیل اب ان ناموں سے کوئی خاک بھی نہ سمجھ سکتا تھا کہ یہ کون ہیں؟ کیونکہ وہاں جن لوگوں کی نگرانی ہو رہی تھی وہ درد صاحب ، غزنوی صاحب اور شیخ محمدعبداللہ کہلاتے تھے۔کئی دن کے بعد کی چیکنگ میں یہ انکشاف ہوا کہ باہر جانے والے کون تھے۔اس پر ڈیوٹی والے پولیس والوں کی شامت آگئی۔لیکن یہ پھر بھی معلوم نہ ہوسکا کہ یہ لوگ گئے کہاں تھے اور کیا J۔۔۔۔۔۔۔کر کے واپس آئے ہیں۔انگریزی علاقہ میں بھی یہ ملاقات صیغہ راز ہی میں رہی۔130