کشمیر کی کہانی — Page 128
اس کے بعد مولانا عبدالرحیم درد کی سرکردگی میں کمیٹی کے ایک وفد کو اس غرض سے جموں بھجوایا تھا کہ وہ سر ہری کشن کول (وزیر اعظم ) مسٹر جنکنز (سپیشل آفیسر ) اور مسن گلینسی سے ملاقاتیں کر کے ریاستی حکام کو اس بات پر آمادہ کریں۔کہ وہ رعایا سے انصاف کریں۔مسٹر جنکنز سے سید زین العابدین کے علاوہ مولانا محمد الدین (سابق مسلم مشنری انگلستان و امریکہ ) بھی مل چکے تھے جن سے وہ کافی متاثر تھے۔مسٹر گلینسی کو مولانا درد نے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ نمائندگان جموں کی مہاراجہ سے ملاقات کرا دیں۔مسٹر گلینسی نے اس کا انتظام کر دیا۔جس پر اُن سے وہ وفد ملا جس کا اوپر ذکر آچکا ہے۔باہمی مشورہ اس سے وفد کے ارکان نے فیصلہ کیا تھا کہ مولوی یعقوب علی مہاراجہ سے بات کریں اور ان پر یہ واضح کریں کہ ہم آپ کی وفادار رعایا ہیں۔ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ عدل کیا جائے اور ہمارے جائز حقوق ہمیں دلائے جائیں۔چودھری غلام عباس نے بھی مولوی صاحب کی تائید میں کہا لیکن مہاراجہ نے وفد کوشتی سے جواب دیا۔کہ تم کسی نرمی کے مستحق نہیں اس ملاقات کی تفصیل آگے آئے گی )۔بدعہدی اور گرفتاریاں دوسری طرف وزیراعظم نے کشمیر کمیٹی کے وفد کو یہ یقین دلانے کے باوجود کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔بد عہدی کرتے ہوئے مفتی ضیاء الدین کو ریاست بدر کر دیا۔شیخ محمد عبد اللہ اور اُن کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے معزز کارکن صوفی عبد القدیر نیاز بی۔اے کو ریاست سے حکماً نکال دیا۔مولوی عبدالواحد ( فاضل ) کو مظفر آباد میں بلاوجہ گرفتار کر لیا۔مولوی غلام محی الدین ( بانڈی پوری ) کے گھر کی تلاشی لیکر ان کا سامان ضبط کر لیا۔132