کشمیر کی کہانی — Page 111
ختم ہو چکی تھی۔انہوں نے آنے والے دوست کو بتائے بغیر ایک زیور نکالا۔کہ اُسے فروخت کر کے روپیہ حاصل کر لیں نو وارد دوست کو پتہ چل گیا۔انہوں نے مذاقا کہا کہ مجھے آپ کی چوری کا پتہ چل گیا ہے۔مگر اس کی ضرورت نہیں رہی۔صدر محترم نے مجھے کچھ رقم دی ہے۔اور فرمایا ہے کہ آپ لوگوں کے کھانے کا خرچ ہمارے ذمہ ہے۔پہلے جانے والوں نے جو خرچ کیا ہو وہ بھی اس میں سے ادا کر دیں اور آئندہ بھی جو خرچ ہو۔لیتے رہیں۔یہ وکلاء جو کھانا کھاتے تھے وہ اتنا سادہ ہوتا تھا کہ جیسا معمولی غریب لوگ کھاتے ہیں۔لیکن ان مخلصین نے کبھی بھول کر بھی شکایت نہ کی کہ وہ مفت کام کرتے ہیں اور ان کو کھانا بھی اچھا نہیں ملتا۔( راقم الحروف کو بھی جب جموں جانا پڑتا تو وہ اپنے وکیل بھائیوں کے سادہ اور روکھے سوکھے دسترخوان میں شریک ہوتا۔ظا) میر محمد بخش نے اپنے ایک دوست مولوی غلام مصطفے بیرسٹر ( گوجرانوالہ ) کو بھی اس خدمت کے لیے تیار کر لیا تھا۔ان کو بھی جموں بلوالیا اور وہ بھی شریک کار ہو گئے۔دفتری کام سنبھالنے کے لیے صدر محترم نے لیفٹیننٹ محمد اسحاق کو ان وکلاء کے پاس جموں بھجوایا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وکلاء کے پہنچنے سے پہلے مسلمانوں کے خلاف ایک مقدمہ پیش ہو چکا تھا۔اس مقدمہ کی پیروی کے لیے ایک بیرسٹر سیالکوٹ سے آئے ہوئے تھے۔جو اپنے آپ کو ایک پارٹی کا نمائندہ کہتے تھے۔لیکن پیروی مقدمہ کے لیے ساٹھ روپے یومیہ اور روزانہ سیالکوٹ سے جموں اور واپسی کا سیکنڈ کلاس کا کرا یہ چارج کرتے تھے۔ان دنوں یہ فیس چوٹی کے وکلاء کی فیس سے بھی زیادہ تھی۔ظا) 115