کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 112 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 112

کمیٹی کے وکلاء نے چونکہ مفت پیروی کرنا تھی۔اس لیے جب ملزمان کو یقین ہو گیا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وکلاء پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے بیرسٹر صاحب کو فارغ کر دیا اور مالی بوجھ سے رہائی حاصل کر لی۔سال کے آخر میں پلٹن کمیشن اور گلینسی کمیشن بھی ریاست کے سرمائی دارالخلافہ جموں میں آگئے تھے۔اس لیے وکلاء کے لیے مقدمات کی پیروی کے علاوہ ان ہر دو کمیشنوں کے متعلق سارا کام تھا۔وکلاء کے پہنچنے پر کام کو دوحصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔تمام مقدمات کی پیروی میر محمد بخش کے سپرد ہوئی اور کمیشنوں کے لیے شہادت کی تدوین و ترتیب چودھری عزیز احمد باجوہ ، مولوی غلام مصطفیٰ بیرسٹر اور چودھری محمد عظیم باجوہ کے سپرد کی گئی ٹائپ اور دفتر کا کام لفٹینٹ محمد اسحاق کے ذمہ لگایا گیا اسی طرح یہ دونوں کام پورے نظم اور کوشش سے شروع ہو گئے۔حکام کی طرف سے مشکلات ریاستی حکام کی طرف سے قدم قدم پر کارکناں کے لیے مشکلات پیدا کی جاتی تھیں۔فسادات جموں کی تحقیق کے لیے کشمیر کمیٹی کی کوشش سے جوٹر بیونل مقرر ہوا اس کے ارکان دو سیشن جج تھے۔ان میں سے ایک ہندو اور ایک مسلم تھا۔اب عدالت میں یہ سوال پیدا ہو گیا کہ میر محمد بخش پلیڈ ر ہیں اور غیر ریاستی پلیڈ ر ریاستی عدالتوں میں بطور وکیل پیش ہی نہیں ہوسکتا۔میر صاحب نے ساری رات ریاستی قانون کا مطالعہ کیا اور پیروی مقدمات کے لیے یہ راہ نکالی کہ ریاستی قانون کے ماتحت کسی ملزم کا مختار خاص مقدمہ کی پیروی کر سکتا ہے۔چنانچہ میر صاحب نے جیل سے تمام ملزمان کے خاص مختار نامے حاصل کر کے عدالت میں پیش کر دیئے۔عدالت نے اعتراض کیا کہ: 116