کشمیر کی کہانی — Page 110
کشمیر کمیٹی کے تحت کام کرنے والے وکلاء کو فسادات کے مقدمات میں ملزمان کی طرف سے بغیر اُجرت پیروی کرنے کی اجازت ہو۔چودھری صاحب نے صدر محترم سے ہدایت ملتے ہی جموں و کشمیر کے چیف جسٹس سربار جو دلال کو انٹرویو کے لیے تار دیا۔ان کا جواب بذریعہ تار آگیا کہ چودھری صاحب تشریف لا سکتے ہیں۔چنانچہ چودھری اسد اللہ خاں وہاں پہنچے اور چیف جسٹس نے ان کی درخواست کو منظور کر لیا۔سر دلال الہ آباد ہائی کورٹ کے ریٹارڈ ج تھے اور انصاف پسند تھے۔ان دنوں جب کہ ہائی کورٹ سری نگر میں تھا۔اُن کی عدالت میں شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ کئی بار پیش ہو چکے تھے۔اور شیخ صاحب کا اُن پر بڑا اچھا اثر تھا۔مخلصانہ ایثار اور خدمات وکلاء کی خدمات کے یہ واقعات ۳۱ ء کے آخر کے ہیں۔ان وکلاء اور دوسرے وکلاء کا ذکر جنہوں نے بڑی قربانی کر کے اپنے کشمیری بھائیوں کی امداد کے لیے اپنے آپ کو صدر کشمیر کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔آئندہ بھی آئے گا۔ان لوگوں نے اپنے کاروبار کی پروا نہ کرتے ہوئے نہایت اخلاص سے اپنی خدمات آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سپرد کی تھیں۔اور رات دن کام کیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی محنت اور قربانی کے نہایت شاندار نتائج نکلے۔اور بیسیوں بے گناہ بری قرار دیئے گئے۔ان قابل احترام وکلاء کی قربانی کا اس ایک مثال ہی سے پتہ چل جائے گا۔کہ ایک وکیل دوست کو جب صدر محترم کشمیر کمیٹی نے یہ حکم دیا کہ فوراً کشمیر چلے جائیں۔تو انہوں نے اس بات کا بھی انتظار نہ کیا۔کہ وہ سفر کے لیے اور رہائش اور خوراک کے لیے نقدی کا انتظام کرلیں۔گھر میں جو نقدی موجود تھی وہی لے لی اور احتیاطاً اپنی بیوی کا کچھ زیور لے لیا اور سید ھے جموں پہنچ گئے۔کئی دنوں کے بعد جب ان کے دوسرے وکیل بھائی جموں پہنچے تو نقدی 114