کشمیر کی کہانی — Page 9
جذبہ حریت کا ایک ایک انگ جھنجوڑا بلکہ توڑا جا چکا ہے حتی کہ مسلم کانفرنس بھی نیشنل کانفرنس کا لبادہ اوڑھ کر ان کے سیاسی پیروں کی شرن میں آگئی ہے تو یہ اپنا چھٹا کھر پاسنبھال یہ کہتے ہوئے پھر اپنی حشرت گاہوں میں جاد بکے۔وو یہ والنٹیر زتو نشے سے صبر نہیں کر سکتا۔قوم کی عزت وشان بیچ کر معافی مانگ کر ٹھنڈے گھر کا راستہ لیتا ہے۔کیا نشے کے عادی افراد کے بل بوتے پر بھی کوئی قومی جنگ جیتی جاسکتی ہے۔یقین۔۔کہ کے ان بے لوث اور غیر جانبدارانہ اوراق کے آئینے میں یہ جبہ پوش بھی پوری طرح بر ہنہ ملیں گے۔اس کہانی کے مؤلف ( چودھری ظہور احمد ) آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اُن خاموش مخلص اور دردمند کارکنوں میں سے ہیں جن کی نگاہوں نے اس اولین شعلہ حریت کو بھڑ کتے دیکھا اور جن کی نگاہوں کے سامنے حریفان حریت کی بدنیتیوں نے اس ایمان افروز کو کی آب و تاب پر وار کیے۔ان کے دماغ و ذہن سے بہتر شاہد ان وارداتوں اور ہولنا کیوں کا اور کون ہوسکتا ہے۔ہمیں آج تحریک کشمیر کے صرف چند لیڈروں ہی کے نام یاد ہیں صرف انہی کے جنہوں نے بصد اہتمام بار بار اپنے آپ کو کسی رنگ میں عوام کی آنکھوں کے سامنے رکھا لیکن یاد داشتوں کے کشکول میں تو کئی درجن مجاہدین حریت کی جاں سپاریاں محفوظ ہیں۔جن کے ایثار کے ذکر خیر میں ان کے قلم نے ذرا انقباض یا بخل سے کام نہیں لیا۔۔۔ویسے بھی دوچار افراد کی حقیقت ہی کیا ہے۔ایسی ہمہ گیر مہموں کے لئے تو ہر مورچے مستعد۔بے لوث۔شجاع ایثار پیشہ کارکنوں کی ضرورت ہوتی ہے۔کسی مورخ کو یہ کیونکر زیب دے سکتا ہے کہ اُن میں صرف چند ایک کے نام اُچک کر اُن کے سروں پر شہرت عام و بقائے دوام کا تاج پہنا دے اور باقی تمام کے چہروں پر فراموشگاری کا لیپ کر دے۔13