کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 10 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 10

راقم الحروف کے نزدیک یہ اور اق صرف اسی لئے اہم نہیں ہیں کہ انہیں پڑھ کر مسلمانانِ کشمیر کی آزادی درستگاری سے دلی ہمدردی رکھنے والوں کو اس سلسلہ کی اولین تحریک کے مقتدر قائد اور اُس کے رفقاء کار کے خلوص کی گہرائی و گیرائی ناپنے میں مدد ملے گی اس لئے بھی اہم ہیں کہ اس کتاب کے مؤلف نہ کوئی سیاسی آدمی ہیں اور نہ کوئی سیاسی عزائم رکھتے ہیں انہوں نے ان اوراق کو اب تک صرف تاریخ کے اہم دستاویزات سمجھ کر سینے سے لگائے رکھا ہے اور جو کچھ اُن کے کشکول میں محفوظ تھا اُس کا ایک حصہ بغیر کسی حاشیہ آرائی کے بے کم دکاست اپنے قارئین کے ہاتھوں میں دے دیا ہے۔اللہ کرے اُن کی یہ خوش نیتی اس شعلہ کی کو کو اور تیز کرنے میں مدد دے سکے۔1965ء میں یہ کمال مہربانی انہوں نے راقم الحروف کی التجا قبول کرتے ہوئے اس کہانی کے بعض اوراق ہفت روزہ ' لاہور کو اشاعت کے لئے مرحمت فرمائے۔ان اقساط کو پڑھ کر جب اہل پاکستان کی طرف سے اس کہانی کو جلد از جلد کتابی صورت میں شائع کرنے کا تقاضا اور مطالبہ شدید ہو گیا تو اس عذر د شرط پر کہ میں اشاعت و طباعت کے معاملہ میں ابتدائی محمد بد بھی نہیں رکھتا ادارہ لا ہور ہی کو اس کی طباعتی نوک پلک سنوارنے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی ) انہیں کتابی شکل دینا منظور کر لیا اور آج اس سلسلہ کی پہلی کوشش آپ کے ہاتھوں میں ہے۔امید کہ آپ کا شوق اور مسلمانان کشمیر کی آزادی وفلاح سے آپ کی دلی دلچپسی پہلی نظر ہی میں راز پا جائے گی اس تحریک کے گیسو سنوار نے اور اس کے تارو پود کو الجھانے اور بکھیرنے میں کس کس کا ہا تھ تھا۔لاہور ۱۸ رمئی ۱۹۶۸ء 14 ثاقب زیروی مد سر ہفت روزہ لاہور