کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 78 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 78

جو تاراخبارات میں شائع ہوا اُس میں یہ مذکور تھا کہ محترم مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے عارضی صلح کی شرائط پر جو تبصرہ فرمایا ہے۔اسے یہاں کی پبلک نے بہت پسند کیا ہے۔۔۔۔مطالبات تیار ہیں۔مگر انہیں ابھی تک پیش اس لیے نہیں کیا جائیگا کہ جموں میں حالات کی نزاکت کے باعث نمائندگان نہیں آسکے۔وہاں کی اکثریت اس صلح کو نا پسند کرتی ہے“ ریاست کے مہمانانِ خاص اس بروقت اقدام سے مسلمانان کشمیر ایک بہت بڑی الجھن سے معاہدہ توڑے بغیر نکل گئے۔اور ریاست اور اس کے حامی اپنی چال میں بری طرح ناکام ہوئے۔ریاست کے مہمانان خاص کا کچھ پہلے ذکر آچکا ہے۔۔۔۔وزیر اعظم کشمیر راجہ ہری کشن کول ہرگز پسند نہ کرتے تھے کہ باہر سے کوئی ایسا لیڈر آئے جسے وہ اپنا آلہ کار نہ بناسکیں۔یہی وجہ تھی کہ جب آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ہندوستان کے مسلّمہ لیڈروں کا وفد بھجوانا چاہا تو اسے اجازت نہ دی گئی۔جس پارٹی کا اوپر ذکر آچکا ہے۔اُس نے بھی اپنے چند آدمیوں کا وفد سری نگر بھجوایا۔جموں پہنچتے ہی انہیں سرکاری حکام نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔سری نگر پہنچنے پر سرکاری ہاؤس بوٹ میں ٹھہرایا۔سرکاری مطبخ والوں نے اُن کی حیثیت سے بہت بڑھ چڑھ کر اُن کے خوردونوش کا انتظام کیا اور انہیں ہر طرح سے خوش رکھنے کے سامان مہیا کئے۔لیکن یہ سب با تیں عوام کو ناپسند تھیں۔وہ ایسے لوگوں کی کاروائیاں دیکھ چکے تھے جو اس سے پہلے آکر سرکاری مہمان ہوئے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ پبلک میں سے کسی نے اُن کو منہ نہ لگایا۔ان سرکاری مہمانوں نے حکومت کا مہمان بنے کی وجہ یہ کھی ہے کہ 82