کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 34 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 34

دست بدعا بھی تھے۔چنانچہ یہ تمام حالات کشمیری مسلمانوں کے اس مونس و غم گسار بزرگ کی خدمت میں بھی پہنچائے جاتے رہے۔جنہیں وہ بطورِ خاص اپنے ذاتی اثر و رسوخ کے ساتھ مسلم پرلیس اور دوسرے غیر جانب دار ہمدرد پریس میں چھپواتے رہے۔چنانچہ آئے دن مظلومین کشمیر کی داستانیں ملک کے جرائد ورسائل میں شائع ہونے لگیں۔شور برپا ہو گیا۔جہاں تہاں مظلومین کشمیر پر مظالم کی داستانیں دہرائی جانے لگیں جس سے ہندو کانگرس کے لیڈر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔کانگرسیوں کی تقریریں جون ۳۱ء میں کانگرسی لیڈروں کی جو تقریریں ہوئیں۔اُن میں سے بھی بیشتر اہلِ کشمیر کے کرب آفریں ذکر سے معمور تھیں۔مثال کے طور پر :۔مسز کملانہرو نے اپنی تقریر میں کہا:۔وو۔۔۔وہ دن گزر گئے جب رعایا استبداد کے جوئے کا بار بغیر کسی نا خوشی اور ناراضی کا اظہار کئے اٹھائے رکھتی تھی والیان ریاست کو جاننا چاہیے کہ ہندوستان کے ہر گوشہ میں ( جس میں ریاستیں بھی شامل ہیں ) ایک عظیم بیداری پیدا ہورہی ہے۔اور اگر انہوں نے فہم و دانش اور حب وطن کا ثبوت نہ دیا تو وہی حشر اُن کا بھی ہوگا۔جو دوسرے فرمانرواؤں کا ہو چکا ہے وو 66 مسٹر سبھاش چندر بوس نے اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں کہا: ہندوستان کے آئندہ نظامِ حکومت میں والیان ریاست کے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔اگر والیان ریاست کانگرس کے اعلان کے مطابق پانچ سو روپے ماہوار لینے پر تیار ہوں تو ممکن ہے کچھ دنوں تک اُن کا وجود نہ رہ سکے۔۔66 38