کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 33 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 33

نے انکار کیا نتیجہ یہ ہوا کہ اُس کا دعوی خارج کر دیا گیا۔ایک گاؤں ڈیگور میں مسلمانوں کو نماز باجماعت ادا کرنے سے روک دیا گیا۔۔۔۔جب اس کی اطلاع دوسرے مسلمانوں کو ہوئی۔تو ان میں شدید غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔جموں جیل کی پولیس لائن میں انہی دنوں میں ایک ہندو ہیڈ کنسٹیل نے ایک مسلمان کنسٹیل کو عین اس وقت جب وہ تلاوت قرآن پاک میں مصروف تھا کہا تم کیا بکواس پڑھ رہے ہو اور طیش میں آکر اُس کا بستر (جس میں قرآن پاک کی بعض سورتوں کا مجموعہ ”پنجسورہ تھا ) پرے پھینک دیا ( پنج سورہ جو قرآن مجید ہی کا حصہ تھا ) زمین پر جا پڑا۔اس واقعہ نے مسلمانوں کو اور بھی برافروختہ کر دیا۔۲۹ / اپریل ۱۹۳۱ء کو عید الاضحی تھی۔جموں میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع اس جگہ ہوا جہاں انجمن اسلامیہ کے زیر اہتمام عید پڑھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔اس عید کی عبادت میں تین چیزیں شامل ہیں۔دو رکعت نماز خطبہ عید اور دُعا۔۔۔نماز ادا کی گئی۔خطبہ جاری تھا امام الصلوۃ نے ( قرآن مجید میں ) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا ( جو واقعہ آتا ہے ) لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا۔ایک آریہ ڈپٹی انسپکٹر پولیس وہاں ڈیوٹی پر تھا۔اُس نے فوراً خطیب کو خطبہ عید پڑھنے سے روک دیا۔اور باوجود یہ بتانے کے کہ خطبہ نماز کا ایک ضروری جزو ہے۔آریہ پولیس افسر اس بات پر اڑا رہا۔کہ تم صرف نماز عید پڑھ سکتے ہو۔لیکچر کی اجازت نہیں۔حالانکہ اُس پر یہ بات بار بار واضح کی گئی۔کہ عید کی نماز کے ساتھ خطبہ پڑھنا ایک مذہبی فریضہ ہے۔اس لئے اس کی بندش مذہب میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔جوں جوں یہ بالا دستیاں وقوع پذیر ہوتی گئیں۔مسلمانانِ کشمیر ان سے اپنے ہمدردوں کو بھی باخبر کرتے چلے گئے جو ہندوستان خصوصاً پنجاب میں اُن کے لئے نہ صرف داتے در سے کوشاں تھے۔اُن کی محکومیت کا عذاب ختم ہو جانے کے لئے اپنے رب سے 37