کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 222 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 222

نکوئی بابداں کردن که مسلمانان کشمیر پر کردن بجائے ڈرامہ کے کردار است! نیک مرداں یہ ظلم عظیم کیوں اُٹھایا گیا۔اس کا پتہ قارئین کو ہندوستان کے ایک مسلمہ لیڈر میاں احمد یار خاں دولتانہ کے ۱۲؍ جولائی ۳۳ ء کے ایک مکتوب سے جو انہوں نے حضرت امام جماعت احمدیہ کے نام تحریر فرمایا بخوبی چل جائے گا۔میاں صاحب مکرم نے لکھا وو حسام الدین جو کشمیر سے آیا تھا۔اس نے لاہور میں روپیہ خرچ کیا۔اسے ایک دوست نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کا اس وقت تک خاتمہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ حضور کمیٹی میں ہیں۔آپ کی ذات مہا راجہ کی آنکھوں میں مثل خار کھنکتی تھی اور واقعی جو کام گورنمنٹ آف انڈیا اور ریاست کشمیر نہ کر سکتے تھے وہ حضور کی بلند حوصلگی اور۔۔کیدوں ہمتی سے ہو گیا۔میں نے تو پیر اکبر علی صاحب سے صاف کہہ دیا تھا کہ ؎ نکوئی بابداں کردن چناں است بد کردن بجائے نیک مردان میاں سر فضل حسین نے بھی میری زبانی کو کہلا بھیجا کہ مسلمانوں کے نقصان کے علاوہ 226