کشمیر کی کہانی — Page 221
منتخب ہونے والے عہدہ داروں کا فرض تھا کہ وہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پہلے سے زیادہ شاندار کام کر کے دکھاتے۔اگر پہلے دس وکیل مقدمات کی پیروی کرنے کے لیے کشمیر میں بھجوائے گئے تھے تو یہ میں نہیں تو بارہ چودہ ہی بھجوا دیتے اگر پہلے عہدہ داروں نے سوسیاسی کارکنان کشمیریوں کی امداد کے لیے بھجوائے ہوئے تھے تو یہ ڈیڑھ سو نہیں تو سو ہی بھجوادیتے اگر پہلے چار ہزار روپے ماہوار خرچ ہو رہا تھا تو وہ اس کو بڑھانہ سکتے تھے کم از کم جاری تو رکھتے لیکن سید حبیب نے کیا ہی صحیح بات قبل از وقت کہہ دی تھی کہ وو میرزا صاحب کی علیحدگی کمیٹی کی موت کے مترادف ہے۔۔۔" چنانچہ نئی کمیٹی کا صرف ایک اجلاس ہوا اور نئے عہدہ داروں نے خود بخود کمیٹی کے توڑنے کا اعلان کر دیا۔یہ اجلاس گویا نشستند وگفتند و برخواستید کی اصل تصویر تھا۔فاعتبروایا اولی الابصار 225