کشمیر کی کہانی — Page 223
اُسے ذاتی طور پر کوئی فائدہ نہ ہوگا وہ شیر قالین ہے۔عملی بات تو سمجھنے سے قاصر ہے۔میری رائے ناقص میں تو حضور والا کو یہ کام پھر ہاتھ میں لینا چاہیے۔ہم سب حضور کے جاں نثار خادم ہیں سے نہ پہلے کچھ ہو سکا اور نہ اب ہو سکے گا۔اس کے متعلق جو احکام ہوں بسر و چشم تعمیل ہوگی“ (اصل خط محفوظ ہے۔ظا) گھر کے بھیدی کی تصدیق اس بارہ میں مجلس احرار کا بیان جو ان کے ایک رسالہ ” تبصرہ “ میں شائع ہوا۔اس بات کی پورے طور پر تصدیق کرتا ہے کہ میاں احمد یار خاں دولتانہ کا بیان حرف بحرف درست تھا۔لکھتا ہے:۔کشمیر کمیٹی کی بنیاد ۳۱ء میں چند اعتدال پسند لوگوں نے رکھی تھی۔میاں سر محمد شفیع ،سر فضل حسین ، میاں امیر الدین اور شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال کے ساتھ قادیان کے خلیفہ بشیر الدین محمود بھی اس ادارہ میں شامل تھے۔اس کمیٹی کے انتخاب سے مرزا بشیر الدین محمود کوصدر اور عبد الرحیم درد مرزائی کو سیکرٹری منتخب کیا گیا۔حضرت امیر شریعت ڈاکٹر ا قبال کو مرشد اور ڈاکٹر اقبال حضرت شاہ صاحب کو پیر جی کہا کرتے تھے۔کشمیر کمیٹی کے سلسلہ میں ان دونوں کے درمیان چودھری افضل حق کی معیت میں کئی ملاقاتیں ہوئیں۔اور طے پایا کہ بشیر الدین محمود اور عبد الرحیم درد کو اگران کی موجودہ ذمہ داری سے نہ ہٹایا گیا تو کشمیر کے ۳۲لا کھ مسلمان کفر وارتداد کا شکار ہو جائیں گے۔لہذا بہتر ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی باگ ڈور مجلس احرار کے سپرد کر دی جائے۔۔۔227