کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 209 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 209

ایک بزرگ کے مزار کو انہوں نے اپنے عزائم کا گڑھ بنایا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اراکین کی فہرست حاصل کی اور بڑی سوچ بچار کے بعد لائحہ کار مرتب ہوا حرف آغاز ان اراکین کمیٹی کو قابو میں کرنا تھا جو ان کی تحریص کا شکار ہوسکیں اور یوں کمیٹی کو تہ و بالا کر دیا جائے۔چنانچہ ایسے چندار کان لا ہور کو شیشے میں اتار لیا گیا۔کس طرح؟ اس کا فیصلہ اور تجزیہ آئندہ نسلیں کریں گی راقم الحروف کو اس موضوع پر قلم اٹھانے کی ضرورت نہیں۔البتہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کے لیے ہندوستان کے ایک مخلص مسلمان لیڈر کے بیان کا کچھ حصہ آگے درج کر رہا ہوں۔واضح رہے صرف لاہو رہی کے تین چار لیڈر اس چال کا شکار ہوئے۔انہی کو آگے کیا گیا۔تا کہ وہ اس ڈرامہ کا کردار ادا کریں متذکرہ جبہ پوش پس پردہ بیٹھے تاریں ہلاتے رہے۔انہوں نے اپنے ساتھ چند سادہ لوح ممبران کو بھی شامل کر لیا حالانکہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اراکین سارے ہندوستان میں موجود اور پھیلے ہوئے تھے۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد لاہور کے تیرہ اراکین کشمیر کمیٹی کے دستخطوں سے محترم صدر کو ایک تحریر بھجوائی گئی کہ لاہور میں کمیٹی کا اجلاس بلائیں۔جس کا مقصد یہ ہو کہ کمیٹی کے عہدہ داران کا نیا انتخاب کیا جائے۔فتنہ کھڑا کرنے والوں نے ۴ رمئی ۳۳ ء کے اخبار سول ملٹری گزٹ میں اپنی تحریر کو خوب اچھالا بلکہ اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی کی۔صدر محترم کی طرف سے ۷ رمئی ۳۳ء کو سیسل ہوٹل میں اجلاس رکھا گیا اور اس کی اطلاع تمام ممبران کو دی گئی۔کشمیر کمیٹی کا اجلاس یہ اجلاس جو محترم میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب صدر کمیٹی کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس میں مندرجہ ذیل اراکین نے شرکت کی۔ڈاکٹر سر محمد اقبال پروفیسر مولا ناعلم الدین سالک 213