کر نہ کر

by Other Authors

Page 27 of 66

کر نہ کر — Page 27

27 تو چشم پوشی اور ستاری کی عادت ڈال۔تو تعصب اور ناواجب طرفداری نہ کر۔تو تذبذب کی عادت چھوڑ دے۔تو مہمان نوازی اختیار کر۔تو دوسرے کا خط بلا اجازت نہ پڑھا تو بے احتیاطی نہ کر۔جدید تو زبان کے چسکوں اور چٹور پن سے ہی تو لگائی بجھائی سے بیچ۔پر ہیز کر اور اپنے بیوی بچوں کو بھی ان یہ تو جعلسازی نہ کر۔ا تو بے وفائی نہ کر۔سے بچا۔تو اپنے اُستادوں ، بزرگوں اور والدین یا تو لجاجت نہ کر۔کی نافرمانی نہ کر۔سوائے اس کے کہ خدا ہو تو سفلہ پن سے بچ۔کا حکم آپڑے۔تو خود پسندی سے بیچ۔تو فخر اور تکبر میں مبتلاء نہ ہو۔حمد تو افترا اور بہتان سے پر ہیز کر۔حمد تو احسان کر کے نہ بتا۔لا تو کینه توزی نہ کر۔تو بد نظری نہ کر۔و لغو کھیل مثلاً شطرنج ، تاش، گنجفہ، چوسر تو نفس پرستی سے دُور بھاگ۔ا تو لوگوں کی بات کاٹنے کی عادت چھوڑ وغیرہ نہ کھیل۔ا تو بے جا عداوت نہ کر۔تو نفاق سے بیچ۔تو گن رسی یعنی چُھپ کر لوگوں کی باتیں سننے سے پر ہیز کر۔تو مداہنہ سے بچ۔کلا تو بے حیا نہ بن۔تو کنجوسی نہ کر۔تو سخت زبانی نہ کر۔تو باطنی نہ کر۔حلیہ تو اپنے نفس پر اعتماد کی عادت ڈال۔ا تو دوسروں پر بھی اعتماد کیا کر۔ا تو مریضوں کی عیادت کیا کر۔تو صلہ رحمی کیا کر۔تو اپنا قصور ماننے میں کبھی نہ ہچکچا۔