کر نہ کر — Page 28
28 ا تو ہمت اور اولوالعزمی اختیار کر۔ا تو لوگوں کے عیبوں کا کھوج نہ لگا۔تو عموماً اپنی ذات کے لئے انتقام نہ لے۔یہ تو طعنے اور طنز سے پر ہیز کر۔تو عدل و انصاف کو ہاتھ سے نہ دے۔ا تو حوصلہ مند بن۔و تو دھڑے بندی سے بالا رہ۔لا تو غیرت مند انسان بن۔یا تو رقت قلب کو اپنے دل میں بٹھا۔تو حق کہنے سے کبھی نہ ڈر۔مگر اُسے حکمت ا تو نرمی اور مسامحت والی طبیعت پیدا کر۔کے ساتھ پیش کر نہ درشتی اور بیہودگی کے ا تو استغناء کا رنگ بھی پیدا کر۔حمدا تیرے سب کام خلوص سے ہوں۔کسی مومن کے لئے تیرے دل میں بغض ساتھ۔نہ ہو۔ا تو معمور الاوقات بن۔یا تو ہنسی ہنسی میں بھی جھوٹ نہ بول۔ہو تو اپنی رائے پر مُصر نہ ہو اور لوگوں کو اُس تو کبھی کسی کا مضمون یا نظم پھرا کر اپنے نام کے ماننے پر مجبور نہ کر۔سے شائع نہ کروا۔تو بے جا خوشامد سے پر ہیز کر۔تو اگر حج یا مجسٹریٹ ہے تو کبھی انصاف کو حملاتو مصیبت ، فقر فاقہ اور بیماری میں یہ تو ندیدہ نہ بن۔برداشت کا نمونہ دکھا۔اتو فضول قصّوں، بیہودہ نظاروں اور ہاتھ سے نہ دے۔بُرے خیالات سے اپنے تئیں بچا۔تو اپنی قوم اور نسب پر فخر نہ کر۔تو نکتہ چینی کی عادت سے پر ہیز کر۔ے خاتون! حیا اور عقت تیرے اصلی تو فضول خرچی سے بیچ۔تو خشک مزاجی سے بیچ۔اور اعلیٰ جو ہر ہیں۔تیری زبان ،ہاتھ یا قلم سے کسی کو بیجا ی تو کسی اچھے اور مفید کام کو ادھورا نہ چھوڑ۔تو بوقت ضرورت پیوند والا کپڑایا پیوند والی تکلیف نہ پہنچے۔جوتی پہننے سے شرم نہ کر۔