کر نہ کر

by Other Authors

Page 12 of 66

کر نہ کر — Page 12

12 اے خاتون! تو اپنے ہر ایک بچے کو ہی اُسے سُنا دے کہ انداز تیرا کب تک کتابیں اور کھلونے رکھنے کے لئے قیام کا ارادہ ہے۔الماری یا صندوق دے۔اور کبھی کبھی تو سفر میں اپنے اسباب سے غافل نہ ہو۔اُسے دیکھ لیا کر کہ اُس میں کوئی نامناسب ہو تو حتی الوسع اکیلا سفر نہ کر بلکہ کسی کو اپنا دیکھ یا چوری کی چیز تو نہیں رکھی۔ساتھی بنالے۔تو نگرانی رکھ کہ تیرے بچے لوگوں سے کچھ تو حتی الوسع ایسی جگہ مہمان بن کر نہ جا مانگیں نہیں۔تو نگرانی رکھ کہ تیرے بچے گالی اور مخش ہوں۔الفاظ زبان پر نہ لائیں۔جہاں میزبان یا اُس کے بیوی بچے بیمار تو حتی الوسع تو تکا ر کر کے بات نہ کر۔اگر تو کسی کے ہاں مہمان جائے تو اپنا ہی تو حتی الوسع اپنے میزبان کے ہاں بے بستر ضرور ساتھ لے جا۔وقت نہ جا۔سوائے بیماری کے تو حتی الوسع ایسے نخرے جب تو سیر کو جائے تو ایک یا زیادہ رفیق نہ کر کہ میں یہ چیز نہیں کھاتا۔وہ چیز نہیں ہمراہ لے لیا کر۔کھاتا۔کیونکہ انسان پر ہمیشہ ایک طرح اگر کسی کمزور مسافر کولاری یاریل میں جگہ نہ ملے تو تو اس کی مددکر۔اطلاع دے۔کا زمانہ نہیں رہتا۔اگر تو کسی کے ہاں مہمان جائے تو بروقت ہو تو اپنی عینک کو استعمال کرنے کے بعد ہمیشہ اُس کے خانہ میں رکھ دیا کر۔اگر کوئی تیرے ہاں مہمان آئے تو سب تو مجلس میں اپنے پیر دراز نہ کر۔سے پہلے اُسے اُس کے سونے کی جگہ اور تو ادھڑے ہوئے یا پھٹے ہوئے کپڑے بیت الخلاء کا پتہ دے۔پہن کر باہر نہ نکل۔اگر تو کسی کے ہاں مہمان جائے تو جاتے تو گھر سے باہر جانے سے پہلے عموماً آئینہ