کر نہ کر — Page 13
13 دیکھ لیا کر۔تو اپنی شادی کے وقت اپنا کفو تلاش کر۔تو اپنے گریبان کے بٹن کھول کر بازار و تو بڑھوں میں بڑھا۔جوانوں میں جوان میں نہ پھر۔اور بچوں میں بچہ بننے کی کوشش کر۔تو گھر کے دروازوں اور کھڑکیوں کو آہستہ یہ یاد رکھ کہ اسلامی تمدن کی بنیاد حقیقی سے بند کیا کر۔تا لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔انتوت پر ہے نہ کہ مادی ٹیپ ٹاپ پر۔حمد آیا در رکھ کہ نکاح کی غرض بیوی کا حاصل کرنا ا تو تکیہ لگا کر کھانا نہ کھا۔ہیں تو گھر کی دیواروں اور فرش کو چاک یا کوئلے ہے نہ کہ مال کا۔وغیرہ کی لکیروں سے بدنما نہ کیا کر۔ے خاتون ! تو اپنے خاوند کی اجازت تیرے سر اور کپڑوں میں جوئیں ہونا حد کے بغیر گھر سے باہر نہ جا۔درجہ کی بدتمیزی اور غلاظت اور لاپرواہی ہی اے خاتون! تو بلا اجازت اپنے خاوند کے نفلی روزہ نہ رکھ۔کی علامت ہے۔تو اپنے سے بڑوں اور برابر والوں کو آپ جب تو کسی کو کوئی چیز رعایہ دے تو لکھ لیا کر۔اور چھوٹوں کو تم کہہ کر خطاب کر۔تو اپنے برتنوں پر اپنا نام گھر والے تا کہ تو سڑک اور راستہ پر ایک طرف ہو کر چلا کر۔بدلے نہ جائیں۔ہیں تو اپنی بیوی اور اولاد کی عزت کر۔اے خاتون ! تو یاد رکھ کہ خدا نے مرد کو تو حفظ مراتب کا خیال رکھ۔عورت پر فضیلت بخشی ہے۔اگر تو مرد ہے تو عورتوں کا اور عورت ہے تو یو اے مرد! تو یا درکھ کہ بیوی کے ساتھ نیک مردوں کا مخصوص لباس نہ پہن۔سلوک کرنا تیرا فرض ہے۔تو مرد ہو کر زنانہ اور زنخہ پن کی حرکات نہ کر۔یہ تو وقت کی پابندی کر۔ا تو اپنے اُستاد نخسر ، اور بڑے بھائی کی اے خاتون ! تو بوقت ضرورت غیر اپنے باپ کی طرح عزت کر۔مردوں سے بریاعتِ پرده و حیابات