کرامات الصادقین — Page 141
كرامات الصادقين ۱۴۱ اُردو ترجمہ كالمجانين۔وتغير وحؤول ثم يُجوّزون یا تغیر و تبدل کا کوئی جواز نہیں۔پھر وہ اس میں بہت كثيرا منها وينسبون سی ایسی باتوں کو روا رکھتے ہیں اور اس کی طرف ہر إليه كل شقوة و خسران بدبختی، گھاٹے، عیب اور نقصان کو منسوب کرتے وعيب ونقصان ويكذبون ہیں اور اس بات کی خود ہی تکذیب کر رہے ہیں ما كانوا صدقوه أولا ويهذون جس کی انہوں نے پہلے تصدیق کی تھی اور پاگلوں کی طرح بکواس کرتے رہتے ہیں۔وفي لـفـظ الـحـمـد لله تعليم الْحَمْدُ لِلَّهِ کے الفاظ میں مسلمانوں کو یتعلیم للمسلمين أنهم إذا سُئلوا وقیل دی گئی ہے کہ جب اُن سے سوال کیا جائے اور اُن لهم من إلهكـم فـوجـب عـلـى سے پوچھا جائے کہ اُن کا معبود کون ہے تو ہر المسلم أن يجيبه أن إلهى الذى مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ جواب دے کہ میرا له الحمد كله وما من نوع كمال معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد ہے اور کسی قسم وقدرة إلا وله ثابت فلا تكن من کا کوئی کمال اور قدرت ایسی نہیں مگر وہ اس کے الناسين۔ولو لاحظ المشرکین لئے ثابت ہے۔پس تو بھولنے والوں میں سے حظ الإيمان وأصابهم طل من نہ بن۔اگر مشرکوں پر ایمان کی کچھ بھی جھلک پڑ العرفان لما طاح بهم ظن السوء جاتی اور ان پر عرفان کی ہلکی سی بارش بھی ہو جاتی بالذي هو قيوم العالمين۔ولكنهم تو انہيں قيوم عالمین پر بدظنی کرنا تباہ نہ کرتا۔لیکن حسبوه کرجل شاخ بعد الشباب انہوں نے خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی مانند سمجھ لیا واحتاج بعد صمدیته إلى جو جوانی کے بعد بوڑھا ہو گیا ہو اور اپنی الأسباب ووقـعـت عـلـيـه شدائد بے نیازی کے بعد اسباب کا محتاج ہو گیا ہو اور اس تحول وفحول وقَشَفُ مُحول پر بڑھاپا اور لاغری کی مصیبتیں اور قحط کی سختیاں ووقع في الإتراب بل قرب وارد ہوئی ہوں اور وہ مٹی میں مل گیا بلکہ تباہی من التباب وكان من المتربين۔کے کنارے جالگا ہوا اور بالکل محتاج ہو گیا ہو۔۲۳۳