کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 279

کرامات الصادقین — Page 92

اُردو ترجمہ ۹۲ كرامات الصادقين وَكَانَ مُكَاوَحَةٌ وَ فِسْقٌ شِعَارَهُمْ يُبَاهُونَ مِرِّيحِينَ فِي سُبُلِ الرَّدَى اور بد گوئی اور فسق ان کا شعار تھا۔ وہ ہلاکت کی راہوں میں مٹک مٹک کر چلنے میں فخر کرتے تھے۔ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ كَافِرٌ إِلَّا الَّذِي أَصَرَّ بِشِقْوَتِهِ عَلَى مَا تَعَوَّدَا پس ان میں سے کوئی کافر باقی نہ رہا سوائے اس شخص کے جس نے اصرار کیا اپنی بدبختی سے اس بات پر جس کا وہ عادی تھا۔ شَرِيعَتُهُ الْغَرَّاءُ مَوْرٌ مُعَبَّدٌ غَيُورٌ فَأَحْرَقَ كُلَّ دَيْرٍ وَ جَلْسَدَا اس کی روشن شریعت ایک شارع عام ہے ۔ وہ غیرت مند ہے ۔ اس نے جلا ڈالا ( یعنی بے اثر کر دیا ) ہر دیر اور معبد کو۔ ولگ وَآتَى بِصُحُفِ اللَّهِ لَا شَكَّ أَنَّهَا كِتَابٌ كَرِيمٌ يَرْفِدُ الْمُسْتَرْفِدَا اور وہ اللہ کے صحیفے لایا۔ کچھ شک نہیں کہ وہ ایک معزز کتاب ہے جو طالب انعام کو عطیہ دیتی ہے۔ فَمَنْ جَاءَهُ ذُلَّا لِتَعْظِيمِ شَأْنِهِ فَيُعْطَى لَهُ فِي حَضْرَةِ الْقُدْسِ سُوْدَدًا جو شخص اس کی عظمت شان کے اظہار کے لئے اس کے پاس نیاز مندی سے آئے تو اسے در بارالہی میں سرداری دی جاتی ہے۔ فَيَا طَالِبَ الْعِرْفَانِ خُذْ ذَيْلَ شَرْعِهِ وَدَعُ كُلَّ مَنْبُوعٍ بِهَذَا الْمُقْتَدَى اے معرفت الہی کے طالب ! اس کی شریعت کا دامن پکڑ لے اور اس پیشوا کے مقابلہ میں ہر پیشوا کو چھوڑ دے ۔ يُزَكِّي قُلُوبَ النَّاسِ مِنْ كُلِّ ظُلُمَةٍ وَ مَنْ جَاءَهُ صِدْقًا فَنَوَّرَهُ الْهُدَى وہ لوگوں کے دلوں کو ہر تاریکی سے پاک کر دیتا ہے اور جو بھی اسکے پاس صدق سے آئے تو اسے (اسکی ) ہدایت منوّر کر دیتی ہے ۔ وَلَمَّا تَجَلَّى نُورُهُ التَّامُ لِلْوَرى وَلَوَّحَ وَجْهَ الْمُنْكِرِينَ وَ سَوَّدَا جب اس کے کامل نور نے مخلوق پر تجلی کی اور منکرین کے چہرے کو جھلس دیا اور سیاہ کر دیا۔ الله ۴۹