کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 279

کرامات الصادقین — Page 51

كرامات الصادقين ۵۱ اُردو ترجمه وَلَيْسَ تُقَاسُ صِفَاتُهُ بِصِفَاتِنَا وَلَا يُدْرِكُهُ بَصَرٌ وَّلَا مَنْ يُبْصِرُ اور اس (خدا) کی صفات کا ہماری صفات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا اور آنکھ اس کا ادراک نہیں کر سکتی اور نہ کوئی دیکھنے والا۔تَعَالَتْ شُونُ اللهِ عَنْ مَّبْلَغ النُّهَى فَكَيْفَ يُصَوِّرُ كُنُهَهُ مُتَفَكِّرُ اللہ کی صفات عقل کی پہنچ سے بالا ہیں۔پس کوئی سوچنے والا اس کی ماہیت کا کیسے تصور کر سکتا ہے۔وَإِنَّ عَقِيدَتَكُمْ خَيَالٌ بَاطِلٌ وَمَا فِي يَدَيْكُمْ مِّنْ دَلِيْلٍ يُوَفَّرُ اور بے شک تمہارا عقیدہ ایک باطل خیال ہے اور تمہارے ہاتھوں میں کوئی مکمل دلیل موجود نہیں۔وَلِلْخَلْقِ خَلاقَ فَتَدَعُونَ ذِكْرَهُ وَتَدْعُونَ مَخْلُوقًا وَ لَمْ تَتَفَكَّرُوا اور مخلوق کا ایک ہی خالق ہے۔اس کے ذکر کو تو تم چھوڑتے ہوا اور تم مخلوق کو پکارتے ہوا اور تم نے سوچا نہیں۔وَ مِنْ ذَاقَ مِنْ طَعْمِ الْمَنَايَا بِقَوْلِكُمْ فَكَيْفَ كَحَي سَرْمَد يَتَصَوَّرُ اور جس نے تمہارے قول کے مطابق موتوں کا مزا چکھ لیا وہ اس دائمی زندہ ہستی کی طرح کیسے متصوّ ر ہو سکتا ہے۔وَقَدْ نَوَّرَ الْفُرْقَانُ خَلْقًا بِنُورِهِ وَلَكِنَّكُمْ عُمْيٌ فَكَيْفَ أُبَصِرُ اور قرآن نے اپنے نور سے مخلوق کو منور کر دیا ہے لیکن تم تو اندھے ہو۔سو میں تمہیں کس طرح بینائی دے سکتا ہوں۔أَلَا إِنَّهُ قَدْ جَاءَ عِندَ مَفَاسِدٍ إِذَامَا انْتَهَى اللَّيْلاءُ فَالصُّبْحُ يَحْشُرُ ﴿٣٢﴾ سن لو کہ قرآن خرابیوں کے وقت آیا ہے اور تاریک رات جب ختم ہو جاتی ہے تو صبح نمودار ہو جاتی ہے۔۱۴۳