کرامات الصادقین — Page 236
كرامات الصادقين ۲۳۶ اُردو ترجمہ أن يأخذ من كل صفة حظہ سے ہر صفت سے اپنا حصہ نہ لے لے اور پروردگار ويتخلق بأخلاق رب الكائنات عالم کے اخلاق کو اختیار نہ کر لے۔پس جو کوئی بھی فمن استفاض منها فيفتح عليه ان سے فائدہ اُٹھاتا ہے اُس پر محبوب رب کی باب عظيم من معرفة الرب معرفت کا ایک عظیم دروازہ کھولا جاتا ہے اور اس المحبوب وتتـجـلـى لـه عظمته (رب) کی عظمت اس کے لئے جلوہ گر ہو جاتی فتـحـصـل الأمـانـة والـتـنـفـرُ من الذنوب والسكينة والإخبات والامتثال الحقيقي والخشية ہے۔پس (اسے) اللہ تعالیٰ کے اذن سے جو سالکین کی تربیت کرنے والا ہے، امان میسر آتی ہے، گناہوں سے نفرت سکینت ، تواضع، حقیقی اطاعت، والأنس والذوق والشوق خشیت، انس ، ذوق و شوق صحیح وجدانی کیفیات اور والمواجيد الصحيحة والمحبة فنا فی اللہ ) کرنے والی اور ( گناہوں کو ) بھسم کر الذاتية المفنية المحرقة بإذن ڈالنے والی ذاتی محبت حاصل ہو جاتی ہے۔الله مُربّى السالكين۔وهذه كلها ثمرات التدبر اور یہ سب کچھ سورۃ فاتحہ کے مضامین پرغور وفکر فـي مــضــامـيـن الفاتحة فإنها كے ثمرات ہیں۔فاتحہ ایک ایسا پاکیزہ درخت ہے جو شجرة طيبـة تـؤتـى كل حين ہر وقت معرفت کے پھل دیتا ہے اور حق و حکمت کے أُكلا من المعرفة ويروى من جام سے سیراب کرتا ہے۔جو شخص بھی اپنے دل کے كأس الحق والحكمة فمن دروازه کو اس کا نو ر قبول کرنے کے لئے کھول دیتا ہے فتح باب قلبه لقبول نورها تو اس کا نور اس میں داخل ہو جاتا ہے اور وہ اس سورۃ فيدخل فيه نورها ويطلع کے پوشیدہ اسرار سے آگاہ ہو جاتا ہے اور جوشخص على مستورها و من غلق الباب اس دروازہ کو بند کرتا ہے وہ خود ہی اپنے فعل سے اپنی فدعا ظلمته إليه بفعله ورأى گمراہی کو دعوت دیتا ہے اور اپنی تباہی کا مشاہدہ کرتا ١٠ التباب ولحق بالهالكين۔ہے اور ہلاک ہونے والوں کے ساتھ جاملتا ہے۔۳۲۸