کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 237 of 279

کرامات الصادقین — Page 237

كرامات الصادقين ۲۳۷ اُردو ترجمه ثم اعلم أن قوله تعالى پھر واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کا قول إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اِس بات پر دلالت کرتا ہے کہ يدل على أن السعادة كلها في تمام كي تمام سعادت رب العالمین کی صفات کی اقتداء صفات ربّ العالمین پیروی کرنے میں ہے اور عبادت کی حقیقت معبود وحقيقة العبادة الانصباغ بصبغ کے رنگ میں رنگین ہونا ہے۔اور یہی راستبازوں المعبود وهو عند أهل الحق کے نزدیک سعادت کا کمال ہے۔چنانچہ كمال السعود فإن العبد لا يكون خدا شناس بزرگوں کے نزدیک بندہ درحقیقت اسی عبدا في الـحـقـيـقـة عـنـد ذوى وقت عبد کہلا سکتا ہے جب اس کی صفات العرفان إلا بعد أن تصير صفاته خدائے رحمان کی صفات کا پر تو بن جائیں۔پس أظلال صفاتِ الرحمن فمن عبودیت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ أمارات العبودية أن تتولد فيه انسان میں بھی حضرت العزت کی ربوبیت کی ربوبية كربوبية حضرة العزة مانند ربوبیت پیدا ہو جائے اور اسی طرح وكذلك الرحمانية والرحيمية حضرت احدیت کی صفات رحمانیت ، رحیمیت وصفة المجازات أظلالا لصفات اور مالکیت یوم الدین خلی طور پر اس میں پیدا الحضرة الأحدية۔وهذا هو ہو جائیں۔یہی وہ صراط مستقیم ہے جس کے الصراط المستقيم الذي أمرنا متعلق ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اسے طلب کریں لنطلبه والشرعةُ التي أوصينا اور یہی وہ راستہ ہے جس کے متعلق ہمیں تاکید لنرقبهـا مـن كـريـم ذی الفضل کی گئی ہے کہ کھلے کھلے فضل والے خدائے کریم سے اس (کے ملنے ) کی امید رکھیں۔المبين۔ثم لما كان المانع من پھر چونکہ ان درجات کے حصول تحصیل تلك الدرجات الرياءَ میں بڑی روک ریا کاری ہے جو نیکیوں الذي يأكل الحسنات والكبر کو کھا جاتی ہے اور تکبر ہے جو بد یوں ۳۲۹