کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 279

کرامات الصادقین — Page 213

كرامات الصادقين ۲۱۳ اُردو ترجمہ كعباد الله العارفين۔و إنه مداومت اختیار کرتے ہیں۔یہ وہ دعا ہے جو دعـــاء تــضــمـن كـل خيـــر و ہر خیر ، سلامتی ، پختگی اور استقامت پر مشتمل ہے سلامة وسداد و استقامة اور اس دعا میں رب العالمین خدا کی طرف وفيه بشارات من الله سے بڑی بشارتیں ہیں۔اور کہتے ہیں کہ ربّ العالمين۔وقيل إن صاحب دل اور روشن ضمیر لوگوں کے نزدیک الطريق لا يُسَمَّى صراطًا طريق ( راستہ ) کو اس وقت تک صراط کا نام عند قوم ذوی قلب و نور نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ اُمورِ دین میں حتى يتضمن خمسة أمور سے پانچ امور پر مشتمل نہ ہو اور وہ یہ مـــن أمـــور الــديــن و هـــى ہیں (۱) مستقیم ہونا (۲) یقینی طور پر مقصود (1) الاستقامة والإيصال إلى تک پہنچانا (۳) اُس کا نزدیک ترین المقصود باليقين وقرب (راه) ہونا (۴) گزرنے والوں کے لئے الطريق وسَعَتُهُ للمارين اس کا وسیع ہونا اور (۵) سالکوں کی نگاہ میں وتعيينه طريقا للمقصود مقصود تک پہنچنے کے لئے اس راستہ کا متعین کیا في أعين السالكين۔وهو جانا۔اور صِرَاط کا لفظ کبھی تو خدا تعالیٰ کی طرف تارةً يُضاف إلى الله إذ هو مضاف كيا جاتا ہے کیونکہ وہ اُس کی شریعت شرعه وهو سوى سُبُلَه ہے اور وہ چلنے والوں کے لئے ہموار راستہ للماشين۔وتارة يُضاف إلى ہے۔اور کبھی اسے بندوں کی طرف مضاف کیا ہے۔العباد لكونهم أهل السلوك جاتا ہے کیونکہ وہ اس پر چلنے والے اور گزرنے والمارين عليها والعابرين والے اور اسے عبور کرنے والے ہیں۔والآن نرى أن توازن هذا اور اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کی الدعاء بالدعاء الذي علمه دُعا کا اس دُعا سے موازنہ کریں جو حضرت مسیح علیہ المسيح في الإنجيل ليتبين لكل السلام نے انجیل میں سکھائی ہے تاہر منصف پر یہ ۳۰۵