کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 279

کرامات الصادقین — Page 214

كرامات الصادقين ۲۱۴ اُردو ترجمه مُنصف أيُّهما أشفى للعليل وأدرا بات واضح ہو جائے کہ ان دونوں میں سے لـلـغـليـل وأرفع شأنا وأتم برهانا كونى (دعا) بیمارکو زیادہ شفاء دینے والی یا وأنفع للطالبین۔فاعلم أن فی پیاسے کی پیاس کو زیادہ بجھانے والی ہے اور إنجيل لوقا قد كُتب فى الإصحاح شان میں زیادہ بلند۔دلیل کے لحاظ سے زیادہ الحادي عشر أن المسيح علم مکمل اور طالبانِ حق کے لیے زیادہ نفع رساں الدعاء هكذا (۲) فقال لهم يعنى ہے۔اب جان لو کہ انجیل کو قا باب " آیت للحواريين متى صليتم فقولوا نمبر ۲ میں لکھا ہے کہ سیح علیہ السلام۔ابانا الذي في السماوات ليتقدس حواریوں کو اس طرح کی دُعا سکھائی اور انہیں اسمک لیات ملکوتک لتکُن کہا: جب تم دُعا کرو تو کہواے ہمارے باپ مشیئتک کما فی السماوات جو آسمانوں پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو۔كذلك على الأرضين۔خُبزنا تیری بادشاہت آوے۔تیری مراد جیسی كفافنا أعطنا كل يوم واغفر لنا آسمانوں پر ہے زمینوں پر بھی بر آوے۔خطايانا لأننا نحن أيضا نغفر لكل ہماری روز کی روٹی ہر روز ہمیں دے اور من يُذنب إلينا (یعنی نغفر ہمارے گنا ہوں کو بخش کیونکہ ہم بھی اپنے تمام للمذنبين)۔ولا تُدخلنا فی قصورواروں کا قصور بخشتے ہیں اور ہمیں تجربة لكن نجنا من الشرير آزمائش میں نہ ڈال بلکہ ہمیں شریر سے بچا۔هذا دعاء علّم للمسيحيين۔یہ دُعا ہے جو مسیحیوں کو سکھائی گئی۔فاعـلـم أنـــه دعــاء يفرّط في معلوم رہے کہ یہ دُعا ربانی صفات کو گھٹا الصفات الربانية وكذلك ما کر پیش کرتی ہے۔نیز یہ دُعا فطرت انسانی يحيط على مقاصد الفطرة کے تمام مقاصد پر بھی حاوی نہیں بلکہ الإنسانية بل يزيد سورة الحسرة روحانی حسرت کی شدت کو اور بھی بڑھاتی الروحانية ويحرك القوى ہے اور یومِ آخرت کی سعادتوں سے غافل