کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 279

کرامات الصادقین — Page 212

كرامات الصادقين ۲۱۲ اُردو ترجمه والنبيون آنسوا منه أُنسَ الرحمن خدائے رحمان کی محبت حاصل کی اور اپنے فما فارقوا الدعاء طُرفة عين إلى آخری وقت تک ایک لحظہ کے لئے بھی دعا کو نہ آخر الزمان۔وما كان لأحد أن چھوڑا اور کسی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اس يكون غنيًا عن هذه الدعوة ولا دعا سے لا پرواہ ہو، یا اس مقصد سے منہ پھیر معرضا عن هذه المُنية نبيًّا أو لے خواہ وہ نبی ہو یا رسولوں میں سے۔کیونکہ كان من المرسلين۔فإن مراتب رُشد اور ہدایت کے مراتب کبھی ختم نہیں ہوتے الرشد والهداية لا تتم أبدا بل بلکہ وہ بے انتہا ہیں اور عقل و دانش کی نگاہیں ان هى إلى غير النهاية ولا تبلغها تک نہیں پہنچ سکتیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے أنظار الدراية فلذلك عَلمَ الله اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی اور اسے نماز کا مدار تعالى هذا الدعاء لعباده وجعله ٹھہرایا تا لوگ اس کی ہدایت سے فائدہ مدار الصلاة ليتمتعوا بر شادہ اُٹھائیں اور اس کے ذریعہ تو حید کو مکمل کریں وليكـمـل النـاس بـه التوحيد اور ( خدا تعالیٰ کے ) وعدوں کو یاد رکھیں اور وليذكروا المواعيد وليستخلصوا مشرکوں کے شرک سے نجات پاویں۔اس دعا من شرك المشركين ومن کے کمالات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ لوگوں كمالات هذا الدعاء أنه يعم کے تمام مراتب پر حاوی ہے اور ہر فرد پر بھی كل مراتب الناس وكل فرد من حاوی ہے۔وہ ایک غیر محدود دعا ہے جس کی أفراد الأنـاس۔وهو دعاء غير کوئی حد بندی یا انتہا نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی محدود لا حد له ولا انتهاء غایت یا کنارہ ہے۔پس مبارک ہیں وہ لوگ ۹۵ ولا غــاى ولا أرجاء فطوبی جو خدا کے عارف بندوں کی طرح اس دعا پر للذين يداومون عليه بقلب زخمی دلوں کے ساتھ جن سے خون بہتا ہے اور دامى الفرح و بروح صابرة الیسی رُوحوں کے ساتھ جو زخموں پر صبر کرنے على الجرح ونفس مطمئنة والی ہوں اور نُفُوسِ مُطْمَئِنَّہ کے ساتھ ۳۰۴