کرامات الصادقین — Page 197
كرامات الصادقين ۱۹۷ اُردو ترجمه أسبابها ولأجل ذلك رغب الله لئے اللہ تعالیٰ نے (لوگوں کو) اس آیت میں في الآية في تحصيل كمالات نبیوں کے کمالات کے حاصل کرنے اور ان الأنبياء واستفتاح أبوابها فإن (كمالات) کے دروازوں کو کھولے جانے کی أكثر الشرك قد جاء فی الدنیا استدعا کی ترغیب دی ہے کیونکہ زیادہ تر شرک من باب إطراء الأنبياء والأولياء نبیوں اور ولیوں کے متعلق غلو کرنے کی وجہ سے وإن الذين حسبوا نبيهم وحيدًا دنیا میں آیا ہے اور جن لوگوں نے اپنے نبی کو فريدا ووحده لا شریک لہ ایسا یکتا اور منفرد اور ایسا وحدہ لاشریک گمان کیا كذات حضرة الكبرياء فكان جیسے ذات ربّ العزت ہے تو اُن کا مال کار یہ ہوا مآل أمرهم أنهم اتخذوه إلها کہ اُنہوں نے کچھ مدت کے بعد اُسی نبی کو معبود بعد مدة وهكذا فسدت بنالیا۔اسی طرح (حضرت عیسیٰ کی تعریف قــلــوب النصارى من الإطراء میں مبالغہ آرائی کرنے اور حد سے بڑھنے کی وجہ والاعتداء۔فالله يشير في هذه سے عیسائیوں کے دل بگڑ گئے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ الآية إلى هذه المفسدة والغواية اِس آیت میں اسی فساد اور گمراہی کی طرف ويومي إلى أن المنعمين من اشارہ فرماتا ہے اور اس طرف بھی اشارہ فرماتا ہے المرسلين والنبيين والمحدثین کہ اللہ تعالیٰ سے ) انعام پانے والے لوگ یعنی إنما يُبعثون ليصطبغ الناس بصبغ رسول نبی اور محدّث اس لئے مبعوث کئے جاتے ہیں تلك الكرام لا أن يعبدوهم که لوگ ان بزرگ ہستیوں کے رنگ میں رنگین ويتخذوهم آلهة كالأصنام ہوں۔نہ اس لئے کہ وہ اُن کی عبادت کرنے لگیں اور فالغرض من إرسال تلک انہیں بتوں کی طرح معبود بنالیں۔پس ان با اخلاق النفوس المهذبة ذوى الصفات پاکیزه صفات والی ہستیوں کو دنیا میں بھیجنے کی غرض یہ المطهرة أن يكون كل متبع قريع ہوتی ہے کہ (ان کا ) ہر متبع ان صفات سے متصف تلك الصفاتِ لا قارِعَ الجبهة ہو نہ یہ کہ انہیں کو پتھر کا بت بنا کر اُس پر ماتھا رگڑنے ۲۸۹