کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 279

کرامات الصادقین — Page 198

كرامات الصادقين ۱۹۸ اُردو ترجمه على هذه الصَّفاة۔فأومأ الله في والا ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سمجھ بوجھ هذه الآية لأولى الفهم والدراية اور عقل رکھنے والوں کو اشارہ فرمایا ہے کہ نبیوں کے إلى أن كمالات النبیین لیست کمالات پروردگار عالم کے کمالات کی طرح نہیں ككمالات رب العالمين وأن الله ہوتے۔اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں اکیلا، أحد صمد وحید لا شریک له بے نیاز اور یگانہ ہے۔اُس کی ذات اور صفات میں في ذاته ولا فى صفاته وأما اُس کا کوئی شریک نہیں۔لیکن نبی ایسے نہیں ہوتے الأنبياء فليسوا كذلك بل جعل بلکہ اللہ تعالیٰ اُن کے سچے متبعین میں سے اُن کے الله لهم وارثين من المتبعين وارث بناتا ہے۔پس اُن کی اُمت اُن کی وارث الصادقين فأُمتهم ورثاؤهم ہوتی ہے۔وہ سب کچھ پاتے ہیں جو اُن کے نبیوں يجدون ما وجد أنبياؤهم كو ملا ہو بشرطیکہ وہ اُن کے پورے پورے متبع کو إن كانوا لهم متبعين۔وإلى بنیں۔اور اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے آیت قل هذا أشار في قوله عزّ وجل: اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ يُحْبِبْكُمُ الله ے میں اشارہ فرمایا ہے۔اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُخبكُمُ الله پس دیکھو کس طرح اللہ تعالیٰ نے افراد امت فانظر كيف جعل الأمةَ أَحبَاءَ الله کو اپنے محبوب قرار دیا ہے بشرطیکہ وہ محبوبوں بشرط اتباعهم واقتدائهم بسیّد کے سردار (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی المحبوبين۔وتدل آية اهْدِنَا کریں اور آپ کے نمونہ پر چلیں۔پھر آیت الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اس بات أن تُراث السابقين من المرسلين پر دلالت کرتی ہے کہ پہلے مرسلوں اور صد یقوں لے تو کہہ کہ (اے لوگو ) اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو ( اس صورت میں ) وہ ( بھی ) تم سے محبت کرے گا۔( ال عمران:۳۲) ۲۹۰