کرامات الصادقین — Page 192
كرامات الصادقين ۱۹۲ اردو ترجمہ لهذه الأربع على وجه الظلية إلا صفات کا مکمل طور پر جامع اللہ تعالیٰ کے عرش یا عرش الله تعالى وقلب الإنسان انسان کامل کے دل کے سوا اور کوئی نہیں اور یہ الكامل وهذه الصفات أمهات (چاروں ) صفات اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کے لصفات الله كلها ووقعت لئے اصولی صفات ہیں ۔ اور وہ اس عرش کے لئے كقوائم العرش الذى استوى الله بمنزلہ پایوں کے ہیں جس پر خدا تعالیٰ مستوی عليه وفي لفظ الاستواء إشارة (جلوہ گر ) ہے اور خدا کے مستوی ہونے میں إلى هذا الانعكاس على الوجه ذات باری تعالیٰ کی صفات کے کامل انعکاس کی الأتم الأكمل من الله الذي هو طرف اشارہ ہے جو بہترین خالق ہے۔ پھر أحسـن الــخــالـقـيـن۔ وتنتهی کل عرش کا ہر پایہ ایک فرشتہ تک پہنچتا ہے جسے وہ قائمة من العرش إلى مَلَك هو اُٹھائے ہوئے ہے اور اسی پایہ کے متعلق امر حاملها ومدبر أمرها ومورد کا انتظام کرتا ہے ۔ وہ اس کی تجلیات کا مورد تجلياتها وقاسمها على أهل السماء بنتا ہے اور ان تجلیات کو آسمانوں اور زمینوں والأرضين۔ فهذا معنى قول الله کے رہنے والوں پر تقسیم کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ تعالى وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ کے قول وَيَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَنِيَةٌ فإن فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَنِيَةٌ لا کے یہی معنے الملائكة يحملون صفاتًا فيها ہیں ۔ کیونکہ ملائکہ ان صفات الہیہ کو اُٹھائے حقيقة عرشية۔ والسر في ذلك ہوئے ہیں جو عرش کی حقیقت سے متعلق ہیں ۔ أن العرش ليس شيئًا من أشياء اور اس میں بھید یہ ہے کہ عرش اس دنیا کی الدنيا بل هو برزخ بین الدنیا چیزوں میں سے نہیں بلکہ وہ دنیا اور آخرت والآخرة ومبدأ قديم للتجلیات کے درمیان برزخ اور صفات ربوبیت، الربانية والرحمانية والرحيمية رحمانیت ، رحیمیت اور مالکیت کی تجلیات کا از لی والمالكية لإظهار التفضلات منبع ہے۔ تا احساناتِ الہیہ کا اظہار اور جزا 22 ے اور اس دن تیرے رب کے عرش کو آٹھ فرشتے اٹھارہے ہوں گے۔ (الحاقۃ : ۱۸) ۲۸۴