کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 191 of 279

کرامات الصادقین — Page 191

كرامات الصادقين ۱۹۱ اُردو ترجمه فليست ذاتية لله تعالى بل ہے بلکہ وہ بعض موجودات کے مطلق کمال کی هي ناشية من عدم قابلية عدم قابلیت کے باعث پیدا ہوتی ہے اور اسی بعض الأعيان للكمال المطلق طرح گمراہ ٹھہرانے کی صفت کا ظہور بھی گمراہ ۸۷ وكذلك صفة الإضلال لا يبدو ہونے والوں میں کجروی پیدا ہونے کے بعد إلا بعد زيغ الضالين۔وأما حصر ہی ہوتا ہے۔لیکن صفات مذکورہ کا حصر چار کے الصفات المذكورة في الأربع عدد میں اس عالم کو مد نظر رکھ کر ہے جس میں فنظرًا على العالم الذي يوجد فيه ان صفات کے آثار پائے جاتے ہیں کیا تم آثارها۔ألا ترى أن العالم كله نہیں دیکھتے کہ یہ عالم سارے کا سارا بزبانِ يشهد على وجود هذه الصفات د هذه الصفات حال ان چاروں) صفات کے وجود پر بلسان الحال وقد تجلت هذه شہادت دے رہا ہے اور یہ چاروں صفات الصفات بنحو لا يشك فيها اس طور سے جلوہ افروز ہیں کہ کوئی صاحب بصير إلا من كان من قوم عمین بصیرت ان میں شک نہیں کر سکتا سوائے اس وهذه الصفات أربع إلى انقراض کے جواندھوں میں سے ہواور یہ صفات اس النشأة الدنيوية ثم تتجلى من دنیا کے اختتام تک چار ( کی تعداد میں ہی ) تحتها أربع أخرى التي من شأنها رہیں گی۔پھر ان ہی میں سے چار راور صفات جلوہ أنها لا تظهر إلا في العالم الآخر گر ہوں گی۔جن کی شان یہ ہے کہ وہ دوسرے وأوّلُ مَطالِعِها عرش الرب جہان میں ہی ظاہر ہوں گی اور ان کی پہلی جلوہ گاہ الكريم الذي لم يتدنس بوجودِ ربِّ کریم کا عرش ہوگا۔جو کبھی غیر اللہ کے وجود غير الله تعالى وصار مظهرًا تاما سے آلودہ نہیں ہوا اور وہ عرش پروردگار عالم کے الأنوار ربّ العالمين وقوائمه انوار کا مظہر نام ہے۔اور اس کے پائے چار أربع ربوبية ورحمانية ورحيمية ہیں۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت اور ومالكية يوم الدين۔ولا جامع مالكيت یوم الدین۔اور ظلی طور پر ان چاروں ۲۸۳