کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 193 of 279

کرامات الصادقین — Page 193

كرامات الصادقين ۱۹۳ اُردو ترجمه وتكميل الجزاء والدين۔وهو سزا کی تعمیل ہو اور یہ عرش اللہ تعالیٰ کی داخل في صفات اللہ تعالی صفات میں داخل ہے کیونکہ اللہ تعالی ازل فإنه كان ذا العرش من قدیم سے صاحب عرش ہے اور اس کے ساتھ ازل ولم يكن معه شيء فكنُ من میں کوئی اور چیز نہ تھی۔پس ان باتوں پر غور و المتدبرين۔وحقيقة العرش فکر کرنے والوں میں سے بنو۔اور عرش کی واستواء الله علیه سر عظیم حقیقت اور اللہ تعالیٰ کا اس پر متمکن ہونا الہی من أسرار الله تعالى وحكمة اسرار میں سے ایک بہت بڑا ستر ہے اور ایک بالغة ومعنی روحانی و سُمّى بلیغ حکمت اور روحانی معنی پر مشتمل ہے عرشًا لتفهيم عقول هذا اور اس کا نام عرش اس لئے رکھا گیا ہے تا العالم ولتقريب الأمر إلى اس جہان کے اہلِ عقل کو اس کا مفہوم سمجھا یا استعداداتهم وهو واسطة جائے اور اس بات کا سمجھنا ان کی فى وصول الفيض الإلهى استعدادوں کے قریب کر دیا جائے۔اور وہ والـتـجـلـى الرحماني من حضرة ( عرش ) الہی فیض اور رحمانی تجلی کو اللہ کی الحق إلى الملائكة ومن درگاہ سے ملائکہ تک اور ملائکہ سے رسولوں تک الملائكة إلى الرُّسل و پہنچانے کا واسطہ ہے۔خدا کی توحید پر یہ بات لا يقدح في وحدته تعالی حرف نہیں لاتی کہ اس کے فیض کو قبول کرنے تكثُرُ قوابل الفیض بل والے اور آگے پہنچانے والے وجود بکثرت التكثر ههنا يوجب البرکات ہوں۔بلکہ اس مقام میں ( وسائط کی ) کثرت لبنى آدم و يعينهم علی بنی آدم کے لئے برکات کا موجب ہے اور ۸۸ القوة الروحانية وينصرهم روحانی قوت کے حصول میں ان کو مدد دیتی فـي الـمـجـاهـدات والرياضات ہے۔اور انہیں ان مجاہدوں اور ریاضتوں میں الموجبة لظهور المناسبات مدد دیتی ہے جو اُن مناسبتوں کے ظہور کا موجب ۲۸۵