کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 279

کرامات الصادقین — Page 170

كرامات الصادقين ۱۷۰ اردو ترجمہ تلبية المطيع ۔ فكأن العباد يقولون ربنا إنا لا نألوا في المجاهدات وفی امتثالك وابتغاء المرضاة ولكن عباده إلى أن يبذلوا فی اس (آیت) میں اپنے بندوں کو اس بات کی مطاوعته جهد المستطيع ترغیب دیتا ہے کہ وہ اس کی اطاعت میں انتہائی ہمت اور کوشش خرچ کریں اور اطاعت ويقوموا ملبين في كل حين گزاروں کی طرح ہر وقت لبیک لبیک کہتے ہوئے (اس کے حضور ) کھڑے رہیں گویا کہ یہ بندے یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم مجاہدات ت کرنے، تیرے احکام کے بجالانے اور تیری خوشنودی چاہنے نستعینک و نستکفی بک میں کوئی کوتا ہی نہیں کر رہے لیکن ہم تجھ سے ہی الافتنان بالعُجب والرياء مدد چاہتے ہیں اور تُعجب اور ریا میں مبتلا ہونے ونستوهب منك توفیقا سے تیری پناہ مانگتے ہیں اور ہم تجھ سے ایسی قائدًا إلى الرشد والرضاء توفیق طلب کرتے ہیں جو ہدایت اور تیری وإنا ثابتون علی طاعتک خوشنودی کی طرف لے جانے والی ہو اور ہم و عبادتک فاكتبنا في تیری اطاعت اور تیری عبادت پر ثابت قدم المطاوعين۔ وهنا إشارة ہیں ۔ پس تو ہمیں اپنے اطاعت گزار بندوں میں لکھ لے۔ اور یہاں ایک اور اشارہ بھی أخرى وهي أن العبد يقول يا رب إنا خصصناك ہے اور وہ یہ کہ بندہ کہتا ہے کہ اے میرے رب ! ہم نے تجھے معبودیت کے ساتھ بمعبودیتک و آثرناک مخصوص کر رکھا ہے اور تیرے سوا جو کچھ بھی علی کل ما سواک ہے اس پر تجھے ترجیح دی ہے پس ہم تیری فلا نعبد شيئا إلا وجهك ذات کے سوا اور کسی چیز کی عبادت نہیں کرتے وإنا من الموحدين۔ اور ہم موحدین میں سے ہیں ۔ اس آیت ۲۶۲