کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 279

کرامات الصادقین — Page 171

كرامات الصادقين 121 اُردو ترجمه الدعاء لـجـمـيـع الإخوان واختار عزّوجل لفظ المتكلّم میں خدائے عزوجل نے متكلّم مَعَ الغَير مع الغير إشارة إلى أن ( جمع متکلم کا صیغہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اختیار فرمایا ہے کہ یہ دعا تمام بھائیوں کے لئے ہے نہ صرف دعا کرنے والے کی اپنی ذات کے لا لنفس الداعي وحث فيه لئے اور اس میں (اللہ نے)مسلمانوں کو باہمی على مسالمة المسلمين مصالحت، اتحاد اور دوستی کی ترغیب دی ہے اور یہ کہ دعا و اتحادهم و و دادهم و علی کرنے والا اپنے آپ کو اپنے بھائی کی خیر خواہی کے أن يـعـنـو الـداعى نفسه لنُصح لئے اسی طرح مشقت میں ڈالے جیسا کہ وہ اپنی أخيه كما يعنو لنصح ذاته ذات کی خیر خواہی کے لئے اپنے آپ کو مشقت میں ڈالتا ہے۔اور اس کی (یعنی اپنے بھائی کی) ويهتم ويقلق لحاجاته ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ایسا ہی اہتمام كما يهتم ويقلق لنفسه و کرے اور بے چین ہو جیسے اپنے لئے اہتمام کرتا لا يفرق بينه وبين أخيه اور بے چین ہوتا ہے۔اور وہ اپنے اور اپنے بھائی ويكون له بكل القلب من کے درمیان کوئی فرق نہ کرے۔اور پورے دل سے الناصحين۔فكـانـه تعالی اس کا خیر خواہ بن جائے گو یا اللہ تعالی تاکیدی حکم (۸۰) يوصى ويقول يا عِبادِتَهادُوا دیتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے بندو! بھائیوں بالدعاء تهادى الإخوان اور مختوں کے (ایک دوسرے کو) تحائف دینے کی طرح دعا کا تحفہ دیا کرو اور اپنی دعاؤں کا دائرہ وسیع کرو اور اپنی نیتوں میں وسعت پیدا کرو یعنی اپنے والمحبّين۔وتناثثوا دعواتكم وتبالثوانيــاتكم وكونوا في نیک ارادوں میں (اپنے بھائیوں کے لئے المحبة كالإخوان والآباء بھی گنجائش پیدا کرو اور باہم محبت کرنے میں والبنين۔بھائیوں ، باپوں اور بیٹوں کی طرح بن جاؤ۔۲۶۳