کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 279

کرامات الصادقین — Page 168

كرامات الصادقين ۱۶۸ اُردو ترجمه ويطرد من يشاء ويدخل چاہے دھتکار دیتا ہے اور جس کو چاہے اپنے خاص من يشاء في المخصوصين۔بندوں میں داخل کر لیتا ہے۔اور ايَّاكَ وفي جملة إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ نَسْتَعِينُ میں نفس امارہ کی شرانگیزی کی شدت کی طرف اشارہ ہے جو نیکیوں سے یوں بھاگتا إشارة إلى عظمة شرّ ہے۔جیسے ان سدھی اونٹنی سوار کو اپنے اوپر بٹھانے النفس الأمارة التي تسعى سے بھاگتی ہے۔یا وہ ایک اثر دہا کی طرح ہے كالعشارة فكأنها أفعى شرها قد طَم فجعل كل سليم جس کا شتر بہت بڑھ گیا ہے کہ جب وہ ڈسے تو ہر ڈسے ہوئے کو بوسیدہ ہڈی کی طرح بنا دے کـعـظـم إذا رَم وتراها تنفث اور تو دیکھ رہا ہے کہ وہ زہر پھونک رہا ہے یا وہ السم أو هي ضرغام ما ينكل شير ( کی طرح) ہے کہ اگر حملہ کرے تو پیچھے نہیں إن هم ولا حول ولا قوة ہٹتا۔کوئی طاقت، قوت، کمائی اور اندوختہ ولا كسب ولا لَمَّ إلا بالله ) کارآمد نہیں سوائے اس خدا تعالیٰ کی مدد الذي هو يرجم الشياطين۔کے جو شیطانوں کو ہلاک کرتا ہے۔وفى تقديم نَعْبُدُ على اور نَعْبُدُ کو نَسْتَعِينُ سے پہلے رکھنے میں اور نَسْتَعِينُ نِـكـات أخرى فنكتب بھی کئی نکات ہیں جنہیں ہم ان لوگوں کے لئے (۷۹) للذين هم مشغوفون بآیات یہاں لکھتے ہیں جو سارنگیوں کی رُوں رُوں پر نہیں بلکہ قرآنی آیات مثانی (سورۃ فاتحہ ) سے شغف المثانـي لا بـــرنـات المثاني رکھتے ہیں۔اور مشتاقوں کی طرح ان کی طرف لپکتے ويسعون إليها شائقين۔وهي أن ہیں اور وہ (نکات یہ ہیں کہ خدائے عز وجل الله عزوجل يعلم عباده دعاءً فيه اپنے بندوں کو ایک ایسی دعا سکھاتا ہے جس میں سعادتهم فيقول يا عبادِ سَلُونی ان کی خوش بختی ہے اور کہتا ہے اے میرے بندو! مجھے بالانكسار والعبودية وقولوا ربنا سے عاجزی اور عبودیت کے ساتھ سوال کرو اور کہو ۲۶۰