کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 279

کرامات الصادقین — Page 162

كرامات الصادقين ۱۶۲ اُردو ترجمه إليه الوجود الذي رُبِّي مِن صفة سب کچھ مہیا کرتی ہے جس کی اسے حاجت ہو۔الربوبية فهذه الصفة تجعل پس یہ صفت تمام وسائل کو رحم پانے والے کے الأسباب موافقة للمرحوم۔وأثر موافق بنا دیتی ہے اور ربوبیت کا نتیجہ وجود کو کامل الربوبية تسوية الوجود و تخليقه قولی دینا اور ایسے طور پر پیدا کرنا ہے جو اس کے كما يليق وينبغى وأثر هذه الصفة لائق حال اور مناسب ہے۔اسی صفت کا اثر یہ ہے أنها تكسى ذلك الوجود لباسًا کہ یہ ہر وجود کو اس کے عیوب کو چھپا دینے والا یواری سوأته و تهبُ له زينته لباس پہناتی ہے۔اُسے زینت عطا کرتی ہے۔وتكحل عينه و تغسل وجهه اس کی آنکھوں میں سرمہ لگاتی ہے۔اس کے چہرہ وتعطى له فرسًا للركوب وتُریہ کو دھوتی ہے۔اس کو سواری کے لئے گھوڑا دیتی طرق الفارسين۔ومرتبتها بعد ہے۔اور اس کو شاہسواروں کے طریق بتاتی ہے الربوبية وهي تعطى كل شيء اور صفت ( رحمانیت) کا درجہ ربوبیت کے بعد مطلوب وجوده وتجعله من ہے وہ ہر چیز کو اس کے وجود کا مطلوب عطا کر کے اسے توفیق یافتہ لوگوں میں سے بنا دیتی ہے۔الموفقين۔ورابعها بحر اسم الرَّحِيم ان میں سے چوتھا صفت الرَّحِیمِ کا وتغترف منه جملةُ صِرَاطَ الَّذِينَ سمندر ہے اور اس سے صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ ليكون العبد من أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا جملہ مستفیض ہوتا ہے تا المنعمين المخصوصين۔فإن بنده خاص انعام یافتہ لوگوں میں شامل ہو جائے۔الرحيمية صفة مُدنِيةٌ إلى كيونكہ رحیمیت ایسی صفت ہے جو ان انعامات الإنعامات الخاصة التي لا خاصہ تک پہنچا دیتی ہے جن میں فرمانبردار لوگوں کا شريک فيها للمطيعين۔وإن كان كوئی شریک نہیں ہوتا۔گو (اللہ تعالیٰ کا ) عام الإنعام العام محيطة بكل شيء انعام انسانوں سے لے کر سانپوں ، اثر دہاؤں من الناس إلى الأفاعي والتنين۔تک کو اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے۔۲۵۴