کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 279

کرامات الصادقین — Page 143

كرامات الصادقين ۱۴۳ اُردو ترجمه آية للمتفكرين۔فالقسم الأوّل والوں کے لئے یہ ایک نشان ہو۔ان فیضانی من أقسام الصفات الفيضانية صفات کی اقسام میں سے پہلی قسم وہ صفت ہے صفة يسميها ربنا رب العالمين۔جس کا نام ہمارا پروردگار رب العالمین رکھتا ہے (۶۹) وهذه الصفة أوسعُ الصفات فى اور یہ صفت فیض رسانی میں دوسری تمام صفات الإفاضة ولا بد من أن نسمّی سے زیادہ وسیع ہے اسی لئے ضروری ہے کہ ہم فيضانها فيضانا أعم لأن صفة اس صفت کے فیضان کا نام فیضانِ ائم الربوبية قد أحاطت الحيوانات رکھیں۔کیونکہ صفت ربوبیت تمام حیوانوں اور وغـيـر الـحـيـوانات بل أحاطت غیر حیوانوں پر ہی حاوی نہیں بلکہ آسمانوں اور السماوات والأرضين وفيضانها زمینوں پر محیط ہے اور اس کا فیضان ہر فیض سے أعم من كل فيض ما غادر إنسانًا زیادہ عام ہے جس نے نہ کسی انسان کو چھوڑا اور ولا حيوانا ولا شجرًا ولا حجرًا نه کسی حیوان کو ، نہ کسی درخت کو اور نہ کسی پتھر کو اور ولا سماء ولا أرضا بل نزل ماء ه نہ کسی آسمان کو اور نہ کسی زمین کو۔بلکہ اس کی رحمت على كل شيء فاحياه وأحاط کا پانی ہر چیز پر نازل ہوا اور اسے زندگی عطا کی۔بالكائنات كلها ظواهرها اس فیضان نے تمام کائنات کی آشکارہ اور وبواطنها فكلُّ شيء صنيعة من پوشیده اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔پس ہر چیز اُسی الله الذي أعطى كل شيء خَلْقَه اللہ کی صنعت ہے۔جس نے ہر چیز کو (اس کی وبدأ خَلْقَ الإنسان من طين ضرورت کے مطابق ) بناوٹ دی۔اور انسان کی واسم ذلك الفیض ربوبیه و به پیدائش کا آغاز گیلی مٹی سے کیا۔اس فیضان کا يبذر الله تعالى بذر السعادة فی نام ربوبیت ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہر كل سعيد وعليه يتوقف استثمار سعيد انسان میں سعادت کی تخم ریزی کرتا ہے۔الخيرات وبروز مادة السعادات نیکیوں کے ثمرات ، نیک بختی کے مادے کا ظہور و آثار الورع والحزامة والتقاة | پارسائی اور حزم وتقویٰ کے آثار اور ہر وہ خوبی جو ۲۳۵