کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 141 of 279

کرامات الصادقین — Page 141

كرامات الصادقين ۱۴۱ اُردو ترجمہ وتغير وحؤول ثم يُجوّزون یا تغیر و تبدل کا کوئی جواز نہیں۔ پھر وہ اس میں بہت فيه كثيرا منها وينسبون سی ایسی باتوں کو روا رکھتے ہیں اور اس کی طرف ہر إليه كل شقوة و خسران بد بختی ، گھاٹے، عیب اور نقصان کو منسوب کرتے وعيب ونقصان ویکذبون ہیں اور اس بات کی خود ہی تکذیب کر رہے ہیں ما كانوا صدقوه أولا ويهدون جس کی انہوں نے پہلے تصدیق کی تھی اور پاگلوں كالمجانين۔ کی طرح بکواس کرتے رہتے ہیں۔ وفي لفظ الحمد لله تعليم الْحَمْدُ لِلہ کے الفاظ میں مسلمانوں کو یہ تعلیم للمسلمين أنهم إذا سئلوا وقيل دی گئی ہے کہ جب اُن سے سوال کیا جائے اور اُن لهم من إلهكم فوجب على سے پوچھا جائے کہ اُن کا معبود کون ہے تو ہر المسلم أن يجيبه أن إلهى الذى مسلمان پر واجب ہے کہ وہ یہ جواب دے کہ میرا له الحمد كله وما من نوع كمال معبود وہ ہے جس کے لئے سب حمد ہے اور کسی قسم وقدرة إلا وله ثابت فلا تكن من کا کوئی کمال اور قدرت ایسی نہیں مگر وہ اس کے الناسين۔ ولو لاحظ المشركين لئے ثابت ہے۔ پس تو بھولنے والوں میں سے حظ الإيمان وأصابهم طل من نه بن ۔ اگر مشرکوں پر ایمان کی کچھ بھی جھلک پڑ العرفان لما طاح بهم ظن السوء جاتی اور ان پر عرفان کی ہلکی سی بارش بھی ہو جاتی بالذي هو قيوم العالمين۔ ولكنهم تو انہيں قیوم عالمین پر بدظنی کرنا تباہ نہ کرتا۔ لیکن حسبوه كرجل شاخ بعد الشباب انہوں نے خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی مانند سمجھ لیا واحتاج بعد صمديته إلى جو جوانی کے بعد بوڑھا ہو گیا ہو اور اپنی الأسباب ووقعت عليه شدائد بے نیازی کے بعد اسباب کا محتاج ہو گیا ہو اور اس تحول وفحول وقَشَفُ مُحول پر بڑھاپا اور لاغری کی مصیبتیں اور قحط کی سختیاں ووقع في الإتراب بل قرب وارد ہوئی ہوں اور وہ مٹی میں مل گیا بلکہ تباہی من التباب وكان من المتربين۔ کے کنارے جالگا ہو اور بالکل محتاج ہو گیا ہو ۔ ۲۳۳