کرامات الصادقین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 279

کرامات الصادقین — Page 118

كرامات الصادقين ۱۱۸ اُردو ترجمه خَفِ اللَّهَ حَرُمَا يَا ابْنَ مَرْءٍ اَحَبَّنِي فَدَعُ مَايُلازِمُهُ عَدُوٌّ مُّخَيَّبُ از راه دانائی اللہ سے ڈر۔اے اس شخص کے بیٹے ! جو مجھ سے پیار کرتا تھا اور چھوڑ دے اس بات کو جس کو نا مراد دشمن اختیار کرتا ہے۔وَمَا يَمُنَعَنَّكَ مِنْ رُجُوعٍ وَتَوْبَةً أَلَيْتَ جَهْلًا حِلْفَةٌ فَتَقَرَّبُ اور کون سی چیز تجھے رجوع اور توبہ سے روک رہی ہے؟ آیا تو نے نادانی سے قسم کھا رکھی ہے (اگر ایسا ہے تو ) تو ملامت کیا جائے گا۔وَإِنْ كُنتَ ذَا عُسْرٍ وَضَمُرٍ مُعَيَّلًا فَإِنْ شَاءَ رَبِّي تُرْزَقَنَّ فَتُحْظَبُ اور اگر تو تنگدست اور لاغر عیال دار ہے تو اگر میرا رب چاہے تو تجھے رزق دے اور تو سیر ہو جائے گا۔وَ وَاللَّهِ إِنَّ شِقَاكَ هَيَّجَ فِي الْبُكَا لَدَى عَيْنِ إِحْيَاءِ تَمُوتُ وَ تُتَغَبُ اور خدا کی قسم ! تیری شقاوت نے مجھ میں آہ و بکا کا جوش پیدا کر دیا ہے۔تو زندگی دینے والے چشمے کے پاس مر رہا اور ہلاک ہو رہا ہے۔الَا تَعْرِفَنُ قِصَصَ الَّذِيْنَ تَمَرَّدُوا فَمَالَكَ تَدْرِى سَمَّ ذَنْبٍ وَّ تُذْنِبُ کیا تو ان لوگوں کے واقعات نہیں جانتا جنہوں نے سرکشی اختیار کی۔پس تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو گناہ کے زہر کو تو جانتا ہے اور پھر گناہ کرتا ہے۔اَتُدَامُ بَيْنَ الْأَقْرَبِينَ كَبَاطِرٍ وَإِنَّ غَدَاةَ الْبَيْنِ أَدْنَى وَأَقْرَبُ کیا تو ہمیشہ اپنے قریبیوں میں اترانے والے کی طرح ہی بنار ہے گا حالانکہ جدائی کی صبح بہت نزدیک اور بہت ہی قریب ہے۔وَمِثْلُكَ جَافٍ قَدْ خَلَا وَمُكَذِّبُ فَابَادَهُمُ رَبِّ قَدِيرٌ مُعَذِّبُ اور تیرے جیسے بہت سے ظالم گزر چکے ہیں اور مکذب بھی۔سو ہلاک کر دیا ان کو رب قدیر عذاب دینے والے نے۔۲۱۰