کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 20 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 20

34 33 33 ۵۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب ده حضرت مفتی محمد صادق صاحب بھیروی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابہ میں سے تھے۔آپ نے آغاز جوانی میں ہی اپنی زندگی خدمت اسلام کیلئے وقف کر دی اور ہندوستان کے علاوہ آپ کو انگلستان اور امریکہ میں بھی تبلیغ کرنے کی توفیق ملی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مفتی صاحب سے بہت محبت تھی۔حضور علیہ السلام نے آپ کے متعلق ۶۔اپریل ۱۹۰۵ء کے بدر میں یوں تحریر فرمایا:۔” ہمارے سلسلہ کے ایک برگزیدہ رکن جوان صالح اور ہر ایک طور سے لائق جن کی خوبیوں کے بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں یعنی محمد صادق صاحب بھیروی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت مفتی صاحب کا طرزِ تبلیغ نہایت ہی سادہ اور انداز بیان دلکش کی زندگی کے دلچسپ واقعات تھا جو ہر قسم کے لوگوں پر خاص اثر کر تا تھا۔ا۔ایک مرتبہ انگلستان میں ایک پادری نے آپ کو اور بعض دیگر معززین کو چائے پر مدعو کیا۔اسی اثناء میں مذہبی گفتگو چل پڑی۔حضرت مفتی صاحب نے فرمایا۔ہم مسلمان نماز کے وقت لوگوں کو بلانے کے لئے نہ تو گھنٹہ بجاتے ہیں اور نہ ہی ناقوس بلکہ اذان دیتے ہیں۔حاضرین مجلس پوچھنے لگے اذان کیا ہوتی ہے؟ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا میں ابھی اذان دے کر بتا تا ہوں۔اس وقت کیا عجیب سماں تھا۔مفتی صاحب انگریزوں کے درمیان اذان دے رہے تھے اور تمام حاضرین حیرت وشوق کے ساتھ مفتی صاحب کو دیکھ رہے تھے۔جب آپ اذان دے چکے تو حاضرین نے کہا ہمیں اذان کے الفاظ کا ترجمہ بھی بتائیے۔تب حضرت مفتی صاحب نے اذان کا www۔alislam۔org ترجمہ اور اس کا مفہوم انہیں بتایا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے۔اس طرح انگلستان میں یہ پہلی اذان تھی جو ایک پادری کے گھر میں دی گئی۔۲۔تثلیث کی حکیمانہ حضرت مفتی صاحب ایک دوست کے ہمراہ لنڈن کے بازار میں سے گزر رہے تھے۔اچانک آپ کی نظر ایک انداز میں تردید دوکان پر پڑی۔جس پر Trinity Book Shop کے الفاظ لکھے ہوئے تھے۔یعنی تثلیث مقدس کا کتب خانہ۔یہ عیسائیت سے متعلق کتابیں فروخت کرنے کی دوکان تھی۔مفتی صاحب کے ساتھی نے پادری صاحب سے پوچھا۔تثلیث سے آپ کی کیا مراد ہے؟ پادری صاحب نے جواب دیا۔تثلیث سے مراد باپ بیٹا اور روح القدس تینوں خدا ہیں۔مگر خدا تین نہیں بلکہ صرف ایک ہے اور یہ ایک روحانی راز ہے کہ تین ایک ہے اور ایک تین۔حضرت مفتی صاحب نے فرمایا۔یہ بات اصولاً عقل کے خلاف ہے کہ تین ایک ہوں اور ایک تین۔دورانِ گفتگو مفتی صاحب کی نظر ایک کتاب پر پڑی جس پر اس کی قیمت تین شلنگ لکھی ہوئی تھی۔مفتی صاحب نے کہا میں یہ کتاب لینا چاہتا ہوں۔پادری صاحب نے کہا بڑے شوق سے لیجئے۔آپ نے اس کی قیمت دریافت کی۔پادری صاحب نے کہا تین شلنگ۔مفتی صاحب نے مسکراتے ہوئے جیب سے ایک شلنگ نکالا اور کہا لیجئے کتاب کی قیمت پادری صاحب نے ایک شلنگ دیکھ کر کہا۔جناب ! شاید آپ کو خیال نہیں رہا۔میں نے عرض کیا تھا اس کتاب کی قیمت تین شلنگ ہے۔حضرت مفتی صاحب نے فرمایا۔کچھ مضائقہ نہیں تین ایک ہے اور ایک تین ہے۔لہذا اس ایک ہی کو قبول فرمائیے۔پادری صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ”جناب معاملہ کی اور بات ہے اور مذہب کی اور “۔