کامیابی کی راہیں (حصہ سوم)

by Other Authors

Page 19 of 60

کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 19

32 31 کر اللہ تعالیٰ کی حمد کے ترانے گا رہے ہیں۔حضرت اقدس نے آپ کے متعلق لکھا ہے: مولوی صاحب اس عاجز کے یک رنگ دوست ہیں اور مجھ سے ایک کچی اور زندہ محبت رکھتے ہیں اور اپنے اوقات عزیز کا اکثر حصہ انہوں نے تائید دین کے لئے وقف کر رکھا ہے اور ان کے بیان میں ایک اثر ڈالنے والا جوش ہے۔اخلاص کی برکت اور نورانیت ان کے چہرہ سے ظاہر ہے۔نیز فرمایا:۔کے تواں کردن شمار خوبی عبدالکریم آنکه جان داد از شجاعت بر صراط مستقیم ترجمہ: عبد الکریم کی خوبیوں کا شمار کس طرح ہو سکتا ہے کہ جس نے بہادری کے ساتھ صراط مستقیم پر جان دی۔۴۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب له حضرت نواب محمد علی خاں صاحب مالیر کوٹلہ کے رئیس اور ریاست میں بہت بڑی جاگیر کے مالک تھے۔آپ شیعہ فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔۱۸۹۰ ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور اپنے اخلاص اور محبت میں اس قدر ترقی کی کہ حضرت اقدس کی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ آپ کے عقد میں آئیں۔اس طرح آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شرف دامادی حاصل ہوا۔حضرت اقدس کی وفات کے سات سال بعد حضور علیہ السلام کی دوسری صاحبزادی نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ آپ کی پہلی بیوی کے منجھلے بیٹے نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کے عقد میں آئیں۔اس طرح حضرت نواب صاحب کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے رشتے کا دوہرا تعلق ہوا۔ایسا ہی حضرت نواب صاحب کی پہلی www۔alislam۔org بیوی سے بیٹی زینب بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے عقد میں آکر حضرت اقدس کی بہو بنیں۔گویا یہ رشتہ داری کا تیسر اتعلق تھا جو حضرت نواب صاحب کو حضرت اقدس سے حاصل ہوا۔خدمات سلسلہ آپ نے جماعت کی بڑی بڑی خدمات سرانجام دیں۔آپ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور لمبے عرصہ تک یہ خدمات بجالاتے رہے۔۲۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام پر آپ نے مالیر کوٹلہ کے مدرسہ کو بند کر دیا اور اس کا سامان قادیان منگوا لیا۔علاوہ ازیں آپ مدرسے کے لئے بہت بڑی مالی قربانی بھی کرتے رہے اور بغیر کسی معاوضہ کے سلسلہ کے اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔۳۔کرم دین والے مقدمہ میں ایک آریہ حاکم آ تمارام مجسٹریٹ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ایک مخلص خادم پر ۷۰۰ روپے جرمانہ یا چھ ماہ قید کا حکم سنایا۔اس کا خیال تھا کہ یہ جرمانے کی رقم تو فوراً ادا نہ کر سکیں گے۔اس طرح حضور علیہ السلام کو قید ہو کر ( نعوذ باللہ ) ذلیل و خوار ہونا پڑے گا۔اس موقعہ پر حضرت نواب صاحب کی پہلے سے بھیجی ہوئی ۹۰۰ روپے کی رقم سے فورا جرمانہ ادا کر دیا گیا۔جس سے حاکم کا سارا منصوبہ خاک میں مل گیا۔بعد ازاں حضرت اقدس کی طرف سے عدالت میں اپیل ہونے پر یہ جرمانے کی رقم واپس ہوگئی اور آپ بُری ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کے متعلق لکھا ہے:۔التزام ادائے نماز میں ان کو خوب اہتمام ہے اور صلحاء کی طرح توجہ اور شوق سے نماز پڑھتے اور منکرات اور مکروہات سے بکلی مجتنب ہیں۔مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک آتا ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہے کہ باوجود تمام اسباب و وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوانِ شباب میں ایسا پر ہیز گار ہو۔(ازالہ اوہام)