کامیابی کی راہیں (حصہ سوم) — Page 21
36 36 35۔حضرت مولوی شیر علی صاحب پیسے حضرت مولوی شیر علی صاحب اور جماں ضلع سرگودھا کے رہنے والے تھے۔آپ نے ایف سی کالج لاہور سے بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔آپ کو انگریزی میں بہت مہارت حاصل تھی آپ کا سب سے بڑا کارنامہ تفسیر القرآن انگریزی کا ترجمہ تیار کرنا ہے اسی سلسلہ میں آپ تین سال کے لئے لنڈن مقیم رہے۔آپ کا لباس بہت سادہ جوتا دیسی اور شلوار ٹخنوں سے اوپر ہوتی۔سردیوں میں موٹا اور کھردرا سا کمبل اوڑھے رکھتے۔آپ کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ السلام علیکم کہنے میں ہمیشہ پہلے کرتے۔اگر سامنے سے کوئی آرہا ہوتا تو خواہ بچہ ہو یا بڑا آپ اسے دور سے ہی السلام علیکم کہ دیتے اور کبھی بھی دوسرے کو بازی نہ لے جانے دیتے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب بہت نیک اور فرشتہ سیرت آپ کا تقویٰ انسان تھے آپ نہایت عابد زاہد خدا ترس، منکسر المزاج غرباء کے ہمدرد اور طلباء کی تعلیم میں مدد دینے والے بزرگ تھے۔لوگ آپ کو ولی اللہ اور فرشتہ کہہ کر پکارتے تھے۔حتی کہ لنڈن میں ایک پرانے احمدی انگریز نے آپ سے متعلق کہا وہ تو ایک فرشتہ ہیں۔آپ کے تقویٰ کا یہ حال تھا کہ ایک دفعہ آپ کی ڈاک میں ایسا خط بھی آیا۔جس کے ٹکٹ پر ڈاکخانہ کی مہر نہیں لگی ہوئی تھی۔یہ ٹکٹ دوبارہ استعمال ہو سکتا تھا جب آپ سے کہا گیا کہ اس ٹکٹ پر تو مہر نہیں لگی ہوئی تو آپ نے ٹکٹ کو پھاڑ کر فرمایا۔یہ ٹکٹ اپنا کام پورا کر چکا ہے۔آپ سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے بچپن کے استاد اور حضور کے تقویٰ کے اعلیٰ مقام کے عینی شاہد تھے۔بیسیوں دفعہ حضور نے آپ کو اپنے سفر کے موقعہ پر امیر مقامی قادیان مقرر فرمایا۔نیز ۱۹۲۴ء میں سفر یورپ پر جاتے ہوئے آپ کو سارے ہندوستان کی احمد یہ جماعتوں کا امیر مقررفرمایا۔www۔alislam۔org ے۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب له حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب رضی اللہ عنہ افغانستان کے ایک گاؤں سیّد گاہ کے باشندہ تھے۔آپ کے آباؤ اجداد اس علاقہ کے رئیس تھے۔آپ بھی کئی لاکھ کی جاگیر کے مالک تھے اور تقویٰ اور فضائل علمی کی وجہ سے ملک بھر میں ان کی عزت تھی۔حضرت صاحبزادہ صاحب ۱۹۰۲ء میں حج بیت اللہ کے ارادہ سے اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔بادشاہ نے انعام و اکرام سے رخصت کیا۔آپ لاہور ہوتے ہوئے قادیان تشریف لائے اور جب بٹالہ پہنچے تو پیدل ہی قادیان کے لئے روانہ ہو پڑے اور قادیان پہنچے تو بلند آواز سے يَأْتُونَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ وَ يَأْتِيَكَ مِنْ كُلَّ فَةٍ عَمِيقٍ پڑھنے لگے۔پہلے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے ملاقات ہوئی اور پھر اسی دن ظہر کی نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس ملاقات کے بارہ میں اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان فرمائے ہیں۔” جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو قسم اس خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ان کو اپنی پیروی اور اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ایسا فنا شدہ پایا کہ جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں اور جیسا کہ ایک شیشہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے ایسا ہی میں نے ان کو اپنی محبت سے بھرا ہوا پایا اور جیسا کہ ان کا چہرہ نورانی تھا ایسا ہی ان کا دل مجھے نورانی معلوم ہوتا تھا۔(تَذْكِرَةُ الشَّهَادَتَيْن) حضرت صاحبزادہ صاحب صاحب کشف و الہام تھے۔آپ واپس افغانستان گئے تو بادشاہ نے آپ کو کابل بلایا۔وہاں علماء کی طرف سے آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور چار ماہ تک قید ر کھے گئے۔اس عرصہ میں بادشاہ نے کئی مرتبہ فہمائش کی کہ آپ اپنے عقائد سے توبہ کر لیں تا کہ رہا کر دیئے جائیں لیکن آپ نے صداقت کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور فرمایا میں اپنے ایمان کو اپنی جان اور ہر ایک دنیوی راحت پر مقدم سمجھتا