کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 8 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 8

10 10 9 سيرة حضرت عمر بن الخطاب نام : عمر کنیت: ابو حفص لقب : فاروق والد کا نام : خطاب ہجرت نبوی سے 40 سال پہلے پیدا ہوئے۔قریش میں منصب سفارت پر مقرر تھے۔اسلام سے قبل سپہ گری، پہلوائی، شہواری سیکھی۔نسب دانی میں مہارت تھی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔پیشہ تجارت تھا۔نبوت کے چھٹے سال اسلام قبول کیا اس وقت تک 39 مسلمان تھے اور چھپ کر عبادت کرتے۔کفار کے مجمع میں اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا اور اعلانیہ خانہ کعبہ میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔حضور ﷺ نے الله فاروق کا لقب عطا فرمایا۔مکہ سے مدینہ کیلئے اعلان کر کے ہجرت فرمائی۔کسی کو روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔مدینہ میں حضور ﷺ نے آپ کو عتبان بن مالک کا بھائی مقرر کیا۔تمام غزوات میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔غزوہ اُحد کے بعد آپ کی صاحبزادی حفصہ حضور اللہ کے نکاح میں آئیں۔حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد خلیفہ بنے۔حضرت عمر کے دور میں ایران، شام، اردن ، بیت المقدس، فلسطین مصر فتح ہوئے۔مدینہ میں فیروز نامی ایک پارسی غلام نے جس کی کنیت ابولولو تھی حضرت عمر پر قاتلانہ حملہ کیا۔ان زخموں کے نتیجہ میں پہلی محرم 24 ھ کو انتقال فرمایا۔نماز جنازہ حضرت صہیب رومی نے پڑھائی۔آپ نے مشورہ کیلئے مجالس قائم کیں۔ملک عرب کو آٹھ حصوں میں مقرر کر کے حاکم اور دیگر افسران مقرر کئے۔1۔ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوں۔2۔باریک کپڑے نہ حاکموں کیلئے ہدایات پہنیں۔3۔چھنا ہوا آٹا نہ کھائیں۔4۔دروازے پر دربان نہ رکھیں۔5۔اہل حاجت کیلئے ہمیشہ دروازہ کھلا رکھیں۔حکماً شراب نوشی اور آوارگی سے منع فرمایا۔پولیس۔جیل خانے اور بیت المال کا قیام فرمایا۔حضرت عمرؓ نے بصرہ کوفہ فسطاط شہر آباد کروائے۔فوج کی ترتیب دی اور وظائف مقرر فرمائے۔مفتوحہ علاقوں میں درس القرآن جاری کروایا اور بکثرت مساجد بنوائیں۔مدینہ میں رات کے وقت گشت کر کے عام لوگوں کے حالات معلوم کرتے۔www۔alislam۔org حضرت الصلح الموعود ليلة السيح الثانى الله ضي آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیٹے تھے۔آپ کا نام حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب تھا۔آپ کی والدہ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ تھیں جو جماعت میں حضرت اماں جان کے نام سے معروف ہیں۔ولادت 12 جنوری 1889 ء کو قادیان میں ہوئی۔7 جون 1897 ء کو آپ کے ختم قرآن کی تقریب ہوئی جس کیلئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مشہور نظم محمود کی آمین لکھی۔1898ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان میں داخل ہوئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کی۔1900 ء میں آپ نے انجمن تشحیذ الا زبان کی بنیاد رکھی۔جنوری 1906 ء میں صدر انجمن احمدیہ کی مجلس معتمدین میں بطور ممبر نامزدگی ہوئی۔مارچ 1906 ء میں آپ کی ادارت میں رسالہ تفخیذ الاذہان جاری ہوا۔دسمبر 1906 ء میں جلسہ سالانہ قادیان میں پہلی بار تقریر کی۔27 اپریل 1908 ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آخری سفر لا ہور میں شرکت کی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ سے قرآن کا ترجمہ بخاری، کچھ طب اور چند عربی رسائل پڑھے۔26 مئی 1908 ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر حضور علیہ السلام کے مشن کو جاری رکھنے کا تاریخی عہد کیا۔1908 ء میں پہلی تصنیف ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے؟“ شائع ہوئی۔فروری 1910ء میں قادیان میں نماز مغرب کے بعد درس القرآن