کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 9 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 9

12 11 شروع کیا۔24 جولائی 1910 ء کو حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے سفر ملتان کے دوران آپ پہلی دفعہ امیر مقامی مقرر ہوئے۔29 جولائی 1910 ء کو پہلی بار خطبہ جمعہ دیا۔25 ستمبر 1911ء کو پہلا خطبہ عید الفطر دیا۔اپریل 1912 ء میں بلاد عرب کا سفر کیا اور حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔19 جون 1913ء کو اخبار الفضل قادیان سے جاری کیا جو تا حال ربوہ اور لندن سے جاری ہے۔حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفة امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد 14 اپریل 1914 ء کو خلیفہ اسیح الثانی منتخب ہوئے۔اور نصف صدی سے زائد عرصہ تک خلافت کی مسند پر متمکن ہوئے اور 7 اور 8 نومبر 1965 ء کو وفات پائی اور 9 نومبر 1965ء کو بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔آپ کی مشہور تصنیفات منصب خلافت - تحفۃ الملوک - برکات خلافت۔حقیقۃ النبوۃ۔انوار خلافت۔ذکر الہی۔حقیقۃ الرؤیا۔اظہار حقیقت۔حقیقۃ الامر۔اسلام اور تعلقات بین الاقوام۔اسلام میں اختلافات کا آغاز۔تقدیر الہی۔ترک موالات و احکام اسلام۔تحفہ شہزادہ ویلیز۔آئینہ صداقت۔ہستی باری تعالی۔تفسیر کبیر۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام دعوت الامیر۔منہاج الطالبین۔سیر روحانی۔خلافت راشدہ۔نظام نو۔اسوہ حسنہ۔اسلام کا اقتصادی نظام۔خلافت اسلامیہ۔سیرۃ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے دورے 1 1924 ء میں دمشق۔اٹلی۔لندن 2۔1955 ء دمشق۔لندن www۔alislam۔org آپ کی اہم تحریکات 7 دسمبر 1917 ء کو وقف زندگی کی پہلی تحریک۔مسجد فضل لندن کیلئے چندہ کی تحریک۔مئی 1922ء میں حفظ قرآن کی تحریک۔تحریک شدھی کے خلاف جہاد کا اعلان۔28 دسمبر 1927ء 25 لاکھ روپے کا ریز روفنڈ قائم کرنے کی تحریک۔17 جون 1928 ء یوم سیرت النبی منانے کی تحریک۔5 فروری 1932 ء مسلمانان کشمیر کیلئے ایک پائی فی روپیہ چندہ کی تحریک۔23 جولائی 1933ء کو اُردو سیکھنے کیلئے اور حضرت مسیح موعود کی کتب پڑھنے کی تحریک کی تحریک جدید۔وقف جدید۔28 جنوری 1944ء کو پہلی دفعہ صلح موعود کے مصداق ہونے کا دعوی کیا۔آپ کے کارنامے جماعتوں میں امارت کا ضلع وار نظام جاری کیا۔نظارتوں کا قیام۔بیرونی ممالک میں مشنوں کا اجراء۔ذیلی تنظیموں خدام الاحمدیہ، اطفال الاحمدیہ، انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کا اجراء - مجلس مشاورت کا اجراء۔ربوہ کو آباد کرنا۔ملکی دفاع کیلئے فرقان بٹالین کا قیام۔افتاء دار الافتاء، دارالقضاء، چندہ عام کی شرح کا تعین ،خلافت لائبریری کا اجراء۔