کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 37
68 20 67 گھر کے آداب گھر ایسا ہو کہ گھر کے تمام افراد وہاں جا کر سکون پائیں۔والدین اور دیگر افراد خانہ کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کریں۔آپس کا تعلق بہت پیار محبت کا ہو۔گھر کے افراد آپس میں گفتگو کے وقت بحث سے پر ہیز کریں۔حفظ مراتب کا خیال رکھیں۔ایک دوسرے پر بدظنی سے بچیں۔چھوٹے بڑوں کی اطاعت کریں اور بڑے چھوٹوں سے شفقت کا سلوک کریں۔باقی افراد خانہ کے دوستوں اور دیگر ملنے جلنے والوں کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کریں۔گھر میں بسم الله السلام علیکم، جزاكم الله ماشاء الله الحمد لله انشاء اللہ وغیرہ الفاظ رائج کریں۔اپنے گھر اور اس کے ماحول کو صاف ستھرارکھیں۔گھر میں جلد سونے اور جلد جاگنے کو رواج دیں۔اپنے گھر میں صبح کے وقت تلاوت قرآن کریم کو رائج کریں۔مسجد میں باجماعت نماز ادا کرنے کے علاوہ گھروں میں بھی سنتیں اور نوافل پڑھنے چاہئیں۔مسجد نہ جا سکنے والے افراد اور خواتین گھر میں وقت پر نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں۔جو افراد مسجد میں جا کر نماز باجماعت ادا کر سکتے ہوں گھر کے ذمہ دا را فراد و خواتین انہیں حتی الوسع توجہ دلاتے رہیں۔رات بستر پر جانے سے پہلے وضو کر نا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔رات لیٹنے سے پہلے بستر کو جھاڑ لیں۔عشاء سے پہلے سونا نہیں چاہئے اور عشاء کی نماز کے بعد بے مقصد باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔روزانہ کم از کم دو بار صبح اور رات کو دانت صاف کرنے کی عادت پختہ کریں۔www۔alislam۔org گھر میں بھی مناسب لباس پہنے کا التزام رکھیں۔اگر کوئی مہمان آئے تو کھلے دل سے مہمان نوازی کریں۔لیکن حد سے زیادہ تکلف نہ کریں۔اگر آپ کسی کے گھر جائیں تو عین دروازے کے سامنے کھڑے نہ ہوں اور دروازوں کی درزوں سے اندرمت جھانکیں بلکہ دروازے کے ایک طرف کھڑے ہو کر اجازت لیں اور دروازہ زور زور سے نہ کھٹکھٹائیں اور نہ ہی گھنٹی بجاتے چلے جائیں۔اگر تین دفعہ وقفہ وقفہ سے اجازت طلب کرنے پر اجازت نہ ملے تو برا منائے بغیر واپس آجائیں۔ایسے کمرے کی چھت پر نہ سوئیں جس کی منڈیر نہ ہو اور چھت کی منڈیر پر بیٹھنے سے گریز کریں۔اپنے مکان اپنے کمرے اور اپنے استعمال کی چیزوں کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھیں۔اپنے گھر کی خوبصورتی بر باد نہ کریں خواہ وہ کرائے کا ہی ہو۔اپنے گھر دیگر مکانوں اور دیواروں پر لکیریں لگانے یا بے جا لکھنے سے بچیں۔گھر کی دیواروں اور فرش کو تھوک یا پان کی پیک سے آلودہ نہ کریں۔اپنی رڈی اور گھر کا کوڑا کرکٹ ہر جگہ بکھیرنے کی بجائے ٹوکری میں ڈالیں اور ہر جگہ مناسب جگہ پر ردی کی ٹوکری رکھی ہونی چاہئے۔اگر آپ باتھ روم میں ہیں تو کسی سے گفتگو نہ کریں۔والدین کو چاہئے کہ اپنا گھر کلی طور پر نوکروں اور بچوں کے حوالہ نہ کریں اور گھریلو ملازمین پر نا قابل برداشت بوجھ نہ ڈالیں۔گھر کے افراد آپس میں ایک دوسرے کی ذاتی زندگی کا مکمل احترام کریں مثلاً ایک دوسرے کی بغیر اجازت خطوط یا ڈائری پڑھنا اور ایک دوسرے کے کمروں میں