کامیابی کی راہیں (حصہ دوم)

by Other Authors

Page 24 of 47

کامیابی کی راہیں (حصہ دوم) — Page 24

42 41 ضروری تشریح نماز پڑھنے کا طریق پہلے بیان ہو چکا ہے اس کے مطابق اہمیت کے اعتبار سے نماز کے چار حصے ہیں۔۱۔فرائض نماز یعنی وہ کام جن کا کرنا ضروری ہے اور اگر ان میں سے کوئی سہو آیا عمدا رہ جائے تو نماز نہ ہوگی۔البتہ اگر سہواً کوئی حصہ رہ جائے تو بعد میں سجدہ سہو کر لیں۔فرائض جن کو ارکان نماز بھی کہتے ہیں۔مندرجہ ذیل ہیں۔۱ تکبیر تحریمہ ۲۔قیام ۳- قرات قرآن کریم ۴۔رکوع ۵۔ہر رکعت میں دو سجدے ۶۔آخری قعدہ ے۔سلام ہر ایک کی تفصیل او پر طریق نماز میں بیان ہو چکی ہے۔۲۔واجبات نماز یعنی وہ کام جن کا کرنا ضروری ہے۔اگر عمدا ان میں سے کوئی نہ کیا جائے تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔البتہ اگر سہؤا کوئی کام رہ جائے تو سجدہ سہو کر لینے سے یہ کی پوری ہو جائے گی۔یہ واجبات مندرجہ ذیل ہیں: سورۃ فاتحہ پڑھنا فرضوں کی پہلی دو رکعت اور سنن ونوافل کی ساری رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا کوئی اور حصہ پڑھنا۔رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا جسے قومہ کہتے ہیں۔دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا جسے جلسہ کہتے ہیں۔دو رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھنا جسے درمیانی قعدہ کہتے ہیں۔قعدہ میں تشہد یعنی التحیات پڑھنا۔ہر فرض کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کرنا جسے تعدیل ارکان کہتے ہیں۔فرائض کو مقررہ ترتیب کے مطابق ادا کرنا۔نماز با جماعت کی صورت میں ظہر اور عصر کی نماز میں آہستہ اور مغرب وعشاء کی پہلی دورکعتوں اور فجر جمعہ اور عیدین کی ساری رکعتوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا۔www۔alislam۔org ۳۔سنن نماز یعنی نماز کے وہ حصے جن کے کرنے سے ثواب ملتا ہے اگر جان بوجھ کر ان میں سے کوئی نہ کیا جائے تو گناہ ہوگا البتہ سہؤا رہ جائے تو نہ گناہ ہے اور نہ سجدہ سہوضروری ہے۔یہ سن مندرجہ ذیل ہیں۔تکبیر تحر یہ کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔ہاتھ باندھنا۔تو جیہہ اور ثناء پڑھنا۔سورۃ فاتحہ کی قرات سے پہلے اعوذ باللہ پڑھنا۔سورۃ فاتحہ کے ختم ہونے پر آمین کہنا۔رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہنا۔رکوع میں کم از کم تین بار تسبیح کہنا۔رکوع سے اٹھتے ہوئے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ کہنا۔اس کے بعد اگر اکیلا نماز پڑھ رہا ہے تو ساتھ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمُدُ کہنا۔اور اگر مقتدی ہے تو تسمیع کی بجائے اس کے لئے یہ حمید کہنا سنت ہے۔سجدہ میں جاتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہنا۔سجدہ میں کم از کم تین بار تسبیح کہنا۔دوسجدوں کے درمیان دعائے ماثورہ پڑھنا۔تشہد میں ذکر توحید پر شہادت کی انگلی اٹھانا۔آخری قعدہ میں درود شریف اور دوسری دعائیں پڑھنا۔فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کے بعد باقی رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا۔نمار باجماعت کی صورت میں امام کے لئے تکبیر تسمیع اور تسلیم بلند آواز سے کہنا۔سلام کہتے ہوئے منہ دائیں اور بائیں طرف پھیرنا۔۴ مستحبات نماز مندرجہ ذیل ہیں۔یعنی نماز کے وہ حصے جن کے کرنے سے ثواب ہوتا ہے اور اگر ان میں سے کوئی رہ جائے تو کوئی گناہ نہیں۔یہ مستحبات نظر سجدہ کی جگہ مرکوز رکھنا۔رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر اور انگلیاں پھیلا کر رکھنا۔رکوع کے بعد کھڑے ہونے کے وقت ہاتھ کھلے چھوڑنا۔سجدے بجا لاتے وقت اس طرح جھکنا کہ پہلے گھٹنے پھر ہاتھ پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر لگے۔رکعت کے لئے کھڑے ہوتے وقت بغیر سہارے کے اٹھنا۔جلسہ اور قعدہ میں ہاتھ گھٹنوں کے قریب اس طرح رکھنا کہ انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔بائیں پاؤں پر بیٹھنا اور دائیں پاؤں کو اس