کلمۃ الفصل

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 95

کلمۃ الفصل — Page 83

کا لفصل جل ہو چکا ہے وہ قیامت کے دن مواخذہ کے لائق ہو گا اور جس پر خدا کے نزدیک اتمام محبت نہیں ہوا اور وہ مکذب اور منکر ہے تو گو شریعیت نے رجس کی بنا ظاہر پر ہے، اس کا نام بھی کا فری لکھا ہے اور ہم بھی اسکو باتباع شرعیت کافر کے نام سے ہی پکارتے ہیں مگر پھر بھی وہ خدا کے نزدیک بموجب آیت لا يكلف الله نفسا إلا وسعها قابل مواخذہ نہیں ہو گا کیا حضرت مسیح موعود کی یہ تحریر تمام جھگڑے کا فیصلہ کر دیتی ہے کسی مزید تفصیل کی ضرورت نہیں۔تیرھواں اعتراض یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جب تمام شریعت نبی کریم پہ ختم ہوچکا ہے اور آپکے بعد کوئی ایسا شخص نہیں آسکتا جو قرآن میں کمی یا زیادتی کر سکے تو پھر نبی کریم کے بعد کسی اور شخص کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ معترض نے شاید یہ سمجھ رکھا ہے کہ صرف ان نبیوں کا انکار کفر ہے۔جن کو احکام شرعی عطا ہوتے ہیں حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے قرآن شریف میں جس جگہ یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسولوں پر ایمان لاؤ وہاں رسولوں کی تخصیص نہیں کی گئی کہ فلاں قسم کے رسولوں کو مانا کرو اور باقیوں کے ماننے کی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے رسل کا لفظ رکھا ہے۔جو بوجہ نکرہ ہونے کے عمومیت چاہتا ہے۔اصل میں یہ سارا د ھو کا اس لیے لکھا ہے کہ مامورین کی بہشت کی غرض کو نہیں سمجھا گیا۔اور اس لیے نہیں بھیجے جاتے کہ وہ ضرور کوئی نیا حکم جاکر نہیں بلکہ ان کے مبعوث کرنے سے صرف یہ غرض ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے ایمانوں کو تازہ کر یں پورت بات دیکھ کر ان کے دلوں کوزندگی بخشیں اور کامل توحید کو دنیا میں قائم کریں اور گذشتہ مامورین کی تعلیم کو ان تمام باتوں سے پاک کر کے جو لوگوں نے بعد میں اسکے ساتھ ملادی ہوں اصل شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کریں۔بنی اسرائیل میں بیسیوں ایسے نبی ہوئے جن کو کوئی کتاب نہیں دی گئی بلکہ وہ توریت پر ہی لوگوں کو قائم کرتے تھے جیسا کہ محکمہ جما النبيون منے پر ہے تو کیا انپر ایمان لانے کو بھی غیر ضروری قرار دو گے ؟ انسان جب ایک سچائی کو چھوڑتا ہے۔تو اسکو بہت سی اور سچائیوں کو بھی چھوڑنا پڑتا ہے۔معترضن نے اس بات کی خواہش میں کوکہیں مرزا صاحب کا ماننا ضروری نہ ہو جاوے اللہ تعالٰی کے بہت سے رسولوں پر ایمان لانی کو غیر ضروری