کلمۃ الفصل — Page 84
ریویو آفت المجزر قرار دیدیا۔صاحب شریعت نبی جن کا قرآن میں ذکر ہے وہ دو ہی ہیں حضرت موسی اور نبی کریم۔انکے سوا جتنے نبی ہیں وہ سب غیر شرعی ہیں۔تو گویا کہ معترض کے اصل کو لیکر سوائے دو نبیوں کے اللہ تعالٰی کے باقی تمام نبیوں کو چھوڑنا پڑتا ہے۔نعوذ باللہ من ذلک۔خدا تو کہتا ہے کہ مومن کا یہ قول ہونا چاہیئے کہ لا نفرق بین احد من را مسلہ لیکن ہم کو یہ بنایا جاتا ہے کہ نہیں صرف دو نبیوں کو ماننا ضروری ہے باقیوں کو نہ ماننے سے کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔اے کاش ہمارے مخالف اعتراض کرنے سے پہلے قرآن شریف پر تو غور کرلیتے۔قرآن کھلے اور غیرت دیل طلب الفاظ میں کہ رہا ہے کہ ما نرسل المرسلين الا مبشرين ومنذرين یعنی مرسلین کے بھیجنے سے ہمارا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ ماننے والوں کو بشار میں دیں اور نہ مانے والوں کو مذاب الہی سے ڈرائیں پس جب مامورین کے مبعوث کرنے کی بڑی غرض ہی اندارد تبشیر ہوتی ہے تو شرعی اور غیر شرعی کا سوال ہی بیجا ہے۔اور پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر نبی کر یہ کے بعد کسی اور کے بانی کی ضرورت نہیں تو کیوں خود نبی کریم نے مسیح موعود پایمان لانے کو ضروری قرار دیا اور اس کا انکار کرنے والوں کو یہودی اور ناری ٹھہرایا۔اگر مسیح موعود پر ایمان لانے کو ضروری قرار دینا غلطی ہے تو یہ غلطی ہے پہنے خود ہی کریم سے سرزد ہوئی نعوذ باللہ من ذلک۔اور پھر یہ غلطی اللہ تعالیٰ سے سرزد ہوئی جس نے ایک ایسے شخص کی خاطر جس پر ایمان لانا ضرور ہی نہیں دنیا کو عذابوں سے بھر دیا۔مجھے تعجب پر تعجب آتا ہے کہ نبی کریم تو یہ فرما دیں کہ ایک وقت میری امت پر اب آئیں گا کہ ان کے درمیان سے قرآن اللہ جائیگا اور لوگ قرآن کو پڑھیں گے مگر وہ انکے حلق سے نیچے نہیں اور یگا لیکن ہم کو یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن کے ہوتے ہوئے کسی شخص کو ماننا ضروری کیسے ہو گیا۔ہم کہتے ہیں کہ قرآن کہاں موجود ہے۔اگر قرآن موجود ہوتا تو کسی کے آنے کی کیا ضرورت تھی مشکل تو یہی ہے کہ قرآن دنیا سے اٹھ گیا ہے۔اسی لیئے تو ضرورت پیش آئی کہ محمد رسول اللہ کو بروزی طور پر دوبارہ دنیا میں مبعوث کر کے آپ پر قرآن شریف اتارا جاوے۔معترض کو چاہیے کہ بہشت مامورین کی " غرض پر غور کرے کیونکہ یہ دھر کا قلت تدبر کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ہے ہندوستان میں چونکہ اکثر لوگ کا مذہب میں اسلیئے نہ حاشیہ پنجگہ موسیٰ اور اسکے بعد کے انبیاء کا ذکر ہے۔منو