کلمۃ الفصل — Page 82
نمبر ۲ ریویو ان پر امیجز آف ریله نہیں ہیں جن کو مسیح موعود کی دعوت نہیں پہنچی۔سو اس کے جواب میں گزارش ہے کہ اول تو مقرش نے دعوت پہنچنے کا مطمہ کی نہیں کیا دعوت کے لیئے یہ ضروری نہیں کہ فرداً فرداً لوگوں کو علم دیا جاوے بلکہ جب عام تبلیغ ہو جائے اور ملک میں ایک بات کی شہرت ہو جاوے تو کر سکتے ہیں کہ سارے ملک کو دعات پہنچ گئی حضرت مسیح موعود نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ مالک امریکہ اور یورپ کے دور دراز ملکوں! تک ہماری دعوت پہنچ گئی ہے ، دیکھو حقیقت الوحی صفحہ ۱۶۷) علاوہ اسکے معترض نے مختلف باتوں کو ایک سمجھ لیا ہے۔قابل مواخذہ ہونا اور بات ہے اور کافر ہونا اور بات۔ممکن ہے کہ ایک شخص کا فرہو لیکن قابل مواخذہ نہ ہو۔اور وہ اس طرح کہ چونکہ شریعت کا فتونو ظاہر پر ہے اس لیئے ہر ایک وہ شخص جو کسی نبی کی جماعت میں داخل نہیں ہوا کا نہ ہے لیکن یہ ضرورت نہیں کہ ہر ایک ایسا شخص قابل مواخذہ بھی ہو کیونکہ قابل مواخذہ ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اور یا کے نزدیک تمام محبت ہو نا ہو پہ ہم کسی شخص کی نسبت قابل مواخاہ ہونے کا فتوی نہیں لگا سکتی کیونکہ تم لوگوں کے دلوں سے واقف نہیں ہاں چونکہ کفر اور ایمان ظاہر کی حالت کے متعلق ہے ایلئے اسکے متعلق ہم کو علم ہو سکتا ہے۔مثال کے طور پر دیکھو دنیا میں لاکھوں ایسے آدمی ہونگے جنہوں نے عمر ہر نبی کریم کا نام سنا ہو گا تو کیا ہم ایسے لوگوں کو مسلمان جانیں گے۔ہرگز نہیں بلکہ وہ کفار کے زمرہ میں ہی شمار ہونگے لیکن ہاں وہ قابل مواخذہ نہیں ہو سکتے کیونکہ ان تک ابھی نبی کریم کی دعوت نہیں پہنچی۔اسی طرح بیشک دنیا میں بلکہ خود ہندوستان میں ہزاروں ایسے لوگ ہوں گے جن تک مسیح موعود کا نام نہیں پہنچا لیکن جب تک وہ مسیح موعود کی جماعت میں داخل ہوجائیں منکرین کے گروہ میں ہی شامل سمجھے جائیں گے کیونکہ حسب تعلم قرآن مسلمان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خدا کے سارے رسولوں پر ایمان لا دے پس وہ جو ابھی تک خدا کے مرسل پر ایما نہیں لایا خواہ عدم علم کی وجہ سے ہی ہو کس طرح مومن اور مسلمان کہلا سکتا ہے ؟ اس حقیقت کو خود حضرت مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸۰ پر اپنے کافروں اور نبی کریم کے کافروں کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے چنانچہ آپ لکھتے ہیں :- و اس میں شک نہیں کہ ج ر خدا تعالی کے نزدیک اول تم کو یا دوسری قسم کر کی نسبت امامت